ایک سفر
Urdu book, p. 377
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ لوگوں کو حیات و کائنات کا اس طرح مطالعہ کرایا جائے کہ ان کے گرد و پیش کی پوری دنیا ان کے لئے رزق ربانی کا دستر خوان بن جائے۔ مثال کے طور پر المنبر کے مذکورہ شمارہ میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ " یہ شہید صدر ہی تھے جن کی بدولت قرآن مجید کے لاکھوں نسخے روس میں تقسیم ہوتے رہے۔" صفحہ ۲۲- یہ وہی واقعہ ہے جس کا ذکر الرسالہ نومبر ۱۹۹۰ (صفحہ ۲۷) میں کیا گیا ہے۔ الرسالہ میں سوویت سسٹم کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ تدبیروں کے ذریعہ حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی جس کے نتیجہ میں سوویت یونین کی آہنی دیواریں ٹوٹ گئیں اور وہاں اسلام کا داخلہ ممکن ہو گیا۔ دوسری طرف المنبر میں اس واقعہ کو تمام تر ایک انسان کی بدولت ظہور میں آنے والا واقعہ بتایا گیا ہے۔ الرسالہ کے مضمون کو پڑھ کر آدمی کے اندر شکر خداوندی کا جذبہ امنڈ سے گا۔ مزید اس کے اندر یہ جذبہ ابھرے گا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں، اور ہم کو چاہئے کہ ہم ان کو استعمال کریں۔ جب کہ المنبر کے بیان سے صرف ہیرو ور شپ کا جذبہ ابھرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اسلامی تربیت کے لئے موجودہ اندازِ کلام کس طرح ناکافی ہے۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا اتنا زیادہ چرچا ہے ۔ اس کے باوجود لوگوں میں حقیقی اسلامی اسپرٹ پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اسلام کے سارے معاملہ کو فخر کا معاملہ بنا دیا گیا ہے۔ اسلامی اسپرٹ تواضع کی اسپرٹ کا نام ہے ۔ اور یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ فخر کی باتیں کبھی تواضع کا مزاج پیدا نہیں کرتیں۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ایک ماہنامہ " ہمدرد صحت " کے نام سے نکلتا ہے ۔ اس کا تازہ شمارہ ستمبر ۱۹۹۱ میں ایک مضمون " قرآن حکیم کی تکریم" کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ قرآن شریف کی تعظیم یہ بھی ہے کہ دورانِ تلاوت اس کے مضامین کے لحاظ سے قلب میں پیدا ہونے والی کیفیات اور تاثرات کا بھی اندازہ کیا جائے۔ اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader