Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 378

By Maulana Wahiduddin Khan

ذکر عذاب پر خوف طاری نہ ہو، اگر جنت کی بشارت پر بشاشت پیدا نہ ہو، اگر عظمت و کبریائی کے ذکر سے دل مائل بہ سجود نہ ہو تو اس کی تکریم کا حق ادا نہیں ہوا (صفحه ۶) یہ بات بظاہر درست ہے۔ مگر مضمون کے آخر میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے اس بات کی نفی ہو جاتی ہے۔ آخر میں کہتے ہیں کہ : قرآن حکیم وہ دولتِ دارین ہے جس پر ہمیں فخر بھی کرنا چاہئے۔ اس امت کے لئے سب سے بڑا اشرف اور اس کے لئے سب سے بڑا سرمایہ افتخار قرآن شریف ہے (صفحه ۱۱) یہ انسانی نفسیات کے سراسر خلاف ہے۔ قرآن کو اگر آپ مسلمانوں کے سامنے فخر کی کتاب کی حیثیت سے پیش کریں اور اس کو ان کے لئے سرمایہ افتخار بتائیں تو اس کے بعد اس احساس کا ابھرنا ناممکن ہو جاتا ہے جو تمام اصلاحات کی جان ہے۔ یعنی خوفِ خدا۔ جس چیز کو آدمی اپنے لئے فخر کا سامان سمجھ لے اس کے تصور سے اس کے اندر ناز کی کیفیت تو آ بھر سکتی ہے مگر اس کے تصور سے اس کے اندر احتسابِ خویش کی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔ لاہور میں جو دینی حلقے ہیں ان میں سے ایک حلقہ وہ ہے جو مولانا جاوید احمد غامدی کی سربراہی میں قائم ہے۔ یہ سب کے سب نوجوان لوگ ہیں۔ ان کی اہم ترین صفت یہ ہے کہ وہ سب کے سب نہایت سنجیدہ ہیں۔ یہاں کے زمانہ قیام میں ان حضرات سے کئی بار انفرادی اور اجتماعی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کی سنجیدگی اور ان کے اسلامی ذوق کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ان حضرات سے جو باتیں ہوئیں ان کو نقل کرنا ممکن نہیں۔ تاہم ایک چیز جس پر میں نے سب سے زیادہ زور دیا وہ دعوت ہے۔ میں نے کہا کہ دعوت الی اللہ ایک لازمی فریضہ ہے جو ہر حال میں اسی طرح اہل اسلام پر عائد ہوتا ہے جس طرح کہ نماز روزہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ نماز روزہ ہر ہر فرد پر فرض ہے اور دعوت الی اللہ کی حیثیت فرض کفایہ کی ہے۔ یعنی کچھ لوگ اس کو ادا کر دیں تو پوری امت سے یہ فریضہ عملاً ساقط ہو جائے گا۔ ورنہ تمام امت ذمہ دار ٹھہرے گی۔ اس کام کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ مسلمان یا مسلمانوں کی پوری جماعت اصلاح یافتہ ہو جائے اس کے بعد اس کام کو انجام دیا جائے۔ دعوت سے مراد اسلام کی طرف دعوت ہے نہ کہ امت مسلمہ کی طرف دعوت۔ اس کا مطلب مدعو کو اس حقیقت واقعہ سے خبردار کرنا ہے کہ وہ اس دنیا میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page