Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 384

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے پسند کرتا ہے۔ گویا کہ وہ لوگ \" ۵۰ فیصد\" دین خدا وندی کے قریب آ چکے ہیں۔ اب صرف \" پچاس فیصد\" مزید انھیں خدا کے دین کے قریب لانا ہے۔ اس کے بعد وہ یہ کہتے ہوئے خدا کے دین میں داخل ہو جائیں گے کہ \" ہم تو پہلے ہی سے اس پر ایمان لائے ہوئے تھے\"۔ جناب محمد اسلم اپّل اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اسی کے ساتھ نہایت سنجیدہ ہیں۔ وہ ایک کالج میں استاد ہیں۔ وہ اس کے سخت خلاف ہیں کہ تعلیم گاہوں میں سیاست کو داخل کیا جائے۔ انھوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر ہماری تعلیم گاہوں کے طلبہ اور معلم سیاسی مزاج کے ہو جائیں تو اس کے بعد ہمیں کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں: We need not any enemy when teachers and the taught have been politicized. مجھے ان لوگوں کے نقطہ نظر سے تو سخت اختلاف ہے جنھوں نے جدید درس گاہوں کو \"قتل گاہ\" بتایا۔ مگر جناب اسلم صاحب کی مذکورہ رائے سے مجھے صد فیصد اتفاق ہے۔ میری قطعی رائے ہے کہ تعلیم گاہوں سے یونین کا نظام اور سیاسی سرگرمیوں کو مطلق طور پر بند کر دینا چاہئے۔ طالب علمی کے زمانہ میں طالب علم کو صرف پڑھنا چاہئے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایک مجلس میں میں نے اسلام کی بنیادی تعلیمات اور دین کے بنیادی تقاضوں پر گفتگو کی ۔گفتگو ختم ہوئی تو ایک صاحب نے کہا کہ ـــــــ \" اور بابری مسجد کا مسئلہ\" میں نے کہا کہ اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسا ہی ہے جیسا لاہور کی مسجد شہید گنج کا مسئلہ۔ حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ مسجد کا مسئلہ نہیں بلکہ مسجد کو سیاست بنانے کا مسئلہ ہے۔ جہاں کہیں بھی آپ کسی دینی معاملہ کو سیاسی استحصال (political exploitation) کا ذریعہ بنائیں گے تو وہی ہوگا جو بابری مسجد کے ساتھ ہوا۔ آپ کے لئے اس کی ایک قریبی مثال لاہور کی مسجد شہید گنج ہے۔ اس مسجد کو ۱۹۳۵ء میں سیاسی استحصال کا ذریعہ بنایا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے ۴۵ سال بعد بھی مسجد شہید گنج تعمیر نہ ہوسکی۔ اسی سے آپ اجودھیا کی بابری مسجد کے معاملہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ لاہور کی مسجد شہید گنج کا مسئلہ یہاں کے پرجوش لیڈروں نے پیدا کیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page