ایک سفر
Urdu book, p. 385
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے کچھ نااہل مسلم لیڈروں کا پیدا کیا ہوا ہے ۔ دونوں کا معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل یکساں ہے۔ یہاں خطابات کے علاوہ روزانہ صبح وشام کثرت سے لوگ ملنے کے لئے آتے رہے اور ان سے گفت گو اور تبادلہ خیال جاری رہا۔ چوں کہ میری گفت گو کا سب سے زیادہ ابھرا ہوا موضوع دعوت ہوتا تھا، اس لئے سوال وجواب بھی اکثر براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی سے متعلق تھے ۔ کچھ لوگوں نے میرے دعوتی نقطہ نظر سے اختلاف کیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہمارا سب سے پہلا کام مسلمانوں کی اصلاح ہے۔ دعوت کام حلہ اس کے بعد آتا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ ہم کو پہلے اپنے ملک میں اسلام کا نظام قائم کرنا ہے اس کے بعد قوموں کو اسلام کا مخاطب بنانا ہے۔ تیسرے صاحب نے کہا کہ سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو درست کیا جائے ۔ اس کے بعد دعوت وغیرہ کا کام کیا جائے ۔ چوتھے صاحب نے کہا کہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم پہلے مسلم امہ کو تیار کریں، اس کے بعد یہ مسلم امہ دوسری قوموں پر دین کی گواہی کا کام انجام دے گی ۔ وغیرہ۔ اس قسم کی تمام باتوں کو میں غلط سمجھتا ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ انذار و تبشیر کا پیغمبرانہ کام ان کی لازمی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی عذر یا کسی بھی تاخیر کے بغیر انہیں اس کام کے لئے اٹھنا ہے۔ اور اپنی پوری طاقت کو خرچ کر کے اس کام کو انجام دینا ہے۔ اس کام کی فطری ترتیب یہ ہے کہ جن افراد کے اندر اس کا احساس پیدا ہو وہ افراد اس کام کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے دوسرے افراد بھی اٹھیں گے ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آسکتا ہے کہ یہ کام اجتماعی سطح پر ہونے لگے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ مسلمان اس وقت ساری دنیا میں مسائل کے اندر گھرے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی کوشش انھیں مسائل سے نجات دلانے والی نظر نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی قوم کی سازش کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی اصل ڈیوٹی (دعوت الی اللہ) کو چھوڑ رکھا ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کا معاملہ سید نایونس جیسا ہے۔ وہ دعوت کے محاذ سے ہٹ گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو مچھلی نے نگل لیا ۔ اسی طرح مسلمانوں کو مسائل نے نگل رکھا ہے۔ یہ حالت صرف اس وقت ختم ہوگی جبیکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader