Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

عرب کے کنارہ واقع ہے۔ ۱۸ ویں صدی کے آغاز میں کراچی صرف ایک معمولی گاؤں تھا۔ یہاں زیادہ تر مچھیرے رہتے تھے۔ ۱۸۳۹ میں انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا۔ یہ قبضہ بے حد اہم تھا۔ یہ واقعہ آخری مغل حکمراں بہادر شاہ ثانی کے زمانہ حکومت (۱۸۳۷۔ ۱۸۵۷) میں ہوا۔ اس وقت ہندستان میں بہت سے علماء اور مصلحین موجود تھے۔ مگر مطبوعہ ریکارڈ سے اس کا ثبوت نہیں ملتا کہ ان میں سے کوئی شخص "کراچی" کی اہمیت کو جانتا ہو۔ کراچی کی اہمیت کو جاننے کے لئے سمندری شعور درکار تھا، اور اس وقت مسلم زعماء میں سے ہر ایک صرف "سیاسی طاقت" کو جانتا تھا، ان میں سے کسی کو "سمندری طاقت" کی خبر نہ تھی۔ بدقسمتی سے یہی صورت حال ظاہری فرق کے ساتھ آج بھی باقی ہے۔ انگریزوں نے کراچی پر قبضہ کر کے وہاں اپنی فوجیں رکھ دیں۔ ۱۸۴۳ میں انھوں نے کراچی اور ملتان کے درمیان دریائے سندھ کے راستہ سے پہلی اسٹیم سروس شروع کی۔ اب کراچی بندرگاہ کی حیثیت سے ترقی کرنے لگا۔ ۱۸۶۶ میں کراچی سے لندن کے لئے براہ راست ٹیلی گراف کا نظام قائم کیا گیا۔ ۱۸۶۹ میں نہر سوئیز کھلنے کے بعد کراچی کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ۱۸۷۳ تک کراچی ایک مکمل بندرگاہ بن چکا تھا۔ ۱۸۷۸ میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی ۔ ۱۹۱۴ میں کراچی پوری برطانی شہنشاہیت میں گیہوں برآمد کرنے کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ ۱۹۲۴ میں یہاں ایک ہوائی اڈہ بنایا گیا جو اب توسیع کے بعد انٹرنیشنل ایرپورٹ کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ ۱۹۳۶ سے ۱۹۵۹ تک وہ پاکستان کی پہلی راجدھانی تھا۔ سندھ میں توڑ پھوڑ کی سیاست لامتناہی طور پر جاری ہے۔ اس سیاست کے نتیجہ میں کچھ لیڈروں کو شہرت اور مقبولیت مل رہی ہے۔ مگر خود سندھ اور اس کے عوام تیزی سے بدحالی کی طرف جا رہے ہیں۔ اس کا ایک منظر یہ ہے کہ تاجر طبقہ (ملکی اور غیر ملکی دونوں) سندھ میں اپنا کاروبار سمیٹ رہا ہے اور پنجاب کی طرف اپنا رخ کرنے لگا ہے۔ آج ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹ کے اخبار جنگ میں ایک ایڈیٹوریل نوٹ (سندھ سے سرمایہ کاروں کی نقل مکانی) نظر سے گزرا۔ اس کے تحت درج تھا: "ایک اخباری اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں ڈکیتی اور اغوا کے واقعات میں اضافے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page