Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد وہاں کے بالخصوص کراچی کے سرمایہ کاروں نے پنجاب کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے اور اب سندھ کے بجائے پنجاب میں نئے صنعتی یونٹ لگانے کے لئے قومی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے رجوع کرنے کا آغاز کر دیا ہے اور پنجاب کے بڑے شہروں کے قرب و جوار میں اپنے عزیزہ و اقارب کے توسط سے صنعتی یونٹ لگانے اور دیگر کاروبار کرنے کے لئے آرای کی خرید میں مصروف ہیں ۔ سرمائے کی گردش اور سرمایہ کاری صرف پر امن فضا میں ہی ممکن ہوتی ہے اور سرمائے کی منڈی اتنی حساس ہوتی ہے کہ محض ایک افواہ ہی اس کے کونے کونے تک ہلچل مچا کر رکھ دیتی ہے، صوبہ سندھ میں ایک عرصے سے اغوا و ڈکیتیوں کے جو واقعات رونما ہوئے ہیں وہ یقیناً سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ اس سے سرمایہ کاروں میں نقل مکانی کا رجحان پیدا ہوا ہو ۔ ایک پاکستانی سلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ خلیج کے ایک ملک میں کچھ دنوں رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک روز وہ وہاں کے پوسٹ آفس میں ایک خط کی رجسٹری کرنے گئے۔ لفافہ پر انھوں نے ہندوستانی قاعدہ کے مطابق ، بھیجنے والے کا پتہ لفافہ کے نیچے بائیں طرف لکھا تھا۔ جب کہ خلیجی قاعدہ کے مطابق ، اس پتہ کو لفافہ کے اوپر بائیں طرف لکھا جانا چاہئے ۔ پوسٹ آفس کے عرب کلرک نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ غلط ہے ، دوسرے لفافہ پر صحیح پتہ لکھ کر لاؤ۔ آدمی نے کہا کہ میرے پاس دوسرا لفافہ نہیں ، اور اس وقت بازار سے بھی دوسرا لفافہ حاصل کرنا مشکل ہے ، آپ اسی لفافہ کو قبول کر لیں ۔ بات بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ کلرک نے بگڑ کر کہا : اتخالف النظام ( کیا تم نظام کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہو) یہ جملہ وہاں کے لحاظ سے ایک قسم کی دھمکی تھی ۔ اس کا مطلب ، دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ خاموش رہو، ورنہ تم کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا ۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں کتنا سخت گیری کا ماحول ہے۔ خلیجی ممالک میں جو امن ہے ، وہ دراصل اسی پابند نظام کا نتیجہ ہے ، اور ہندوستان میں جو بے امنی ہے ، وہ یہاں کے آزاد نظام کا نتیجہ ۔ اس دنیا میں اکثر اوقات یہ ممکن نہیں ہوتا کہ آدمی بیک وقت دونوں چیزوں کو لے سکے ۔ ایک کو لینے کے لئے اسے دوسرے کو چھوڑ نا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page