لاہور میں اجتماعی پروگرام
Urdu book, p. 389
By Maulana Wahiduddin Khan
معمر قذافی نے عرب ملکوں سے کہا ہے کہ انھیں اگلے ۲۰ سال میں متحدہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں پر مشتمل مزاحمتی طاقت بنانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اگر لیبیا نے مناسب مقدار میں طاقت ور اسلحہ بنا لیا ہوتا تو پھر ہم ۱۹۸۶ میں امریکہ کی بم باری کا جواب دیتے ۔ اگر ہمارے پاس نیو یارک پہنچنے والے میزائل ہوتے تو اس بم باری کے جواب میں اسی وقت ہم اپنی فوجوں کو نیو یارک پر میزائل پھینکنے کی ہدایت کرتے ۔ اس لئے ہمیں یہ طاقت حاصل کرنا چاہئے تاکہ آئندہ امریکہ یا کوئی اور ہم پر دوبارہ حملہ کرنے کے بارے میں نہ سوچے (نوائے وقت، ۲۳ اپریل ۱۹۹۰)۔ میں نے کہا کہ ہتھیار کی جس طاقت کو معمر قذافی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ سوویت روس کے پاس بھاری مقدار میں موجود تھی۔ اس کے باوجود اس نے اپنے ہتھیار کو اپنے دشمن امریکہ پر استعمال کرنے کے لئے اپنے آپ کو عاجز پایا۔ چنانچہ اس نے امریکہ پر میزائل مارنے کے بجائے اس سے مصالحت کی بات چیت کی۔ حتیٰ کہ اس مصالحت کو ممکن بنانے کے لئے اس پر راضی ہو گیا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو برباد کر دے۔ مختلف واقعات نے ثابت کیا ہے کہ آج دنیا اس حد تک بدل چکی ہے کہ اب تشدد کی طاقت نے اپنی اثر انگیزی کھودی ہے۔ آج تشدد کی طاقت کے مقابلہ میں امن کی طاقت زیادہ موثر ہے۔ اس معاملہ کی ایک مثال جاپان ہے۔ جاپان نے صنعتی اعتبار سے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ مگر جاپان کے پاس آج بھی کوئی قابلِ ذکر فوجی طاقت نہیں۔ مگر جاپان کی تعمیری ترقی امریکہ کے لئے زیادہ بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ امریکہ میں اوپنی نین پول سے معلوم ہوا ہے کہ بیشتر امریکی روس کی فوجی طاقت کے مقابلہ میں جاپان کی صنعتی اور اقتصادی طاقت کو اپنے لئے زیادہ بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ ٹائم (۳۰ اپریل ۱۹۹۰) نے ایک اوپنی نین پول میں اپنے امریکی قارئین سے پوچھا کہ : Was the U.S. right or wrong to get involved in the Vietnam War? اس سوال کے جواب میں ۲۹ فی صد امریکیوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اس اقدام میں رائٹ تھا اور ۵۷ فی صد امریکیوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اس اقدام میں رانگ تھا۔ یہ ویت نام جنگ ختم ہونے کے پندرہ سال بعد کا جواب ہے۔ ویت نام کی جنگ (۱۹۵۷ - ۱۹۷۵) میں امریکہ کے ۵۸۰۲۲ مرد اور عورت ہلاک ہوئے۔ ویت نام کی جنگ ۱۹۵۷ سے ۱۹۷۵ تک جاری رہی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader