لاہور میں اجتماعی پروگرام
Urdu book, p. 388
By Maulana Wahiduddin Khan
جس نے انھیں استحصال پسند لیڈروں کی شکار گاہ بنا دیا ہے۔ کرسٹیانایمب برطانیہ کی ایک خاتون جرنلسٹ ہیں۔ وہ فنانشل ٹائس کی کرسپانڈنٹ کی حیثیت سے کئی سال تک پاکستان میں رہی ہیں۔ پاکستان کے بارہ میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں انھوں نے ۳۰۰ صفحہ کی ایک کتاب تیار کی ہے۔ یہ کتاب لندن سے چھپی ہے: Christina Lamb, Waiting for Allah — Pakistan's Struggle for Democracy وہ لکھتی ہیں کہ ابتداڈ جب میں پاکستان آئی تو اس سے مجھے بہت دلچسپی ہوئی۔ میں نے اس کے بارہ میں بڑی بڑی امیدیں قائم کر لیں۔ مگر حقیقی تجربات نے مجھے اس کے بارہ میں مایوس کر دیا۔ خاص طور سیاسی کرپشن پاکستان کو اتنا زیادہ برباد کر چکا ہے کہ بنطا ہر اس کی ترقی کا کوئی امکان نہیں ۔ ان کے خیالات کا خلاصہ خود ان کے الفاظ میں یہ ہے کہ ــــ آؤ ہم خدا پر بھروسہ کریں اور انتظار کریں کہ وہ ہم کو نجات دے گا۔ کیونکہ ہم خود یہ کام نہیں کر سکتے : Let us have faith in Allah and wait for Him to redeem us, because we cannot do it ourselves. کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پاکستان کے بارہ میں برطانوی خاتون کے احساسات اس کے معاند کے احساسات نہیں ہیں بلکہ اس کے دوست کے احساسات ہیں۔ تاہم میں نے ایک صاحب سے کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری سب سے زیادہ جس کے اوپر آتی ہے وہ یہاں کا " اسلام پسند طبقہ ہے۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد ان لوگوں نے نہایت غیر دانش مندانہ طور پر یہ کیا کہ وہ " اسلامائزیشن آف پاکستان" کا سیاسی جھنڈا لے کر کھڑے ہوگئے ۔ حالاں کہ ان کے کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ اسلامائزیشن آف مین کے محاذ پر اپنی ساری توتیں صرف کرتے ۔ اگر وہ ایسا کرتے کہ سیاست کے معاملہ کو نارمل پولٹیکل پر اسس کے حوالے کر دیتے اور خود فرد اور معاشرہ کی اصلاح کی مہم میں لگ جاتے تو یقینی طور پر پاکستان کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو برطانی صحافی جیسے ہی خواہ ہوں کو آج وہ نظر آتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ مسلم دنیا کو ایٹمی طاقت بننا چاہئے۔ انھوں نے حوالہ دیا کہ لیبیا کے لیڈر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader