لاہور میں اجتماعی پروگرام
Urdu book, p. 392
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں پر گولی چلائی تھی، اس وقت میں یہاں موجود تھا۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے مسلمان یہاں جمع ہیں اور اندر داخل ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن انگریز پولیس نے ایک نشان کر دیا تھا کہ اس حد سے آگے کوئی نہ بڑھے۔ مسلمان نہایت جوش میں تھے ۔ وہ بڑھ کر اس حد کو پار کرتے۔ میں نے دیکھا ایک مسلمان آگے بڑھا ۔ پولیس نے گولی چلائی۔ اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ دوسرا مسلمان آگے بڑھا ۔ دوبارہ پولیس نے گولی چلائی۔ اور اس کی لاش وہیں گر پڑی۔ اس طرح بارہ آدمی بڑھے اور سب کے سب گولی کھا کر گرتے رہے۔ اس کے بعد مجھے دیکھنے کی تاب نہ رہی ۔ میں وہاں سے ہٹ گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ خدا بخش لائبریری جنرل کے حوالے سے ہفت روزہ نقیب (پٹنہ) کے شمارہ ۹ ستمبر ۱۹۹۱ میں ایک دستاویز شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب لنڈا بازار میں دوسوسال پہلے ایک مسجد تعمیر ہوئی جو مسجد عبداللہ خاں کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کو لاہور کے کوتوال عبداللہ خاں نے بنوایا تھا۔ سکھوں کی شورش کے زمانہ میں پنجاب کے مغل گورنر نے ان کی سرکوبی شروع کی۔ مسجد کے قریب ہی کوتوالی میں سکھ مجرموں کو سزا دی جاتی تھی۔ اسی زمانہ میں ایک سکھ لیڈر تار و سنگھ یہیں مارا گیا۔ اس کے بعد جب سکھوں کا راج آیا تو انھوں نے مسجد پر قبضہ کر لیا اور اس کے قریب تار و سنگھ کی یاد میں ایک سمادھی بنا دی۔ جون ۱۹۳۵ میں سکھوں نے فیصلہ کیا کہ مسجد عبداللہ خاں (جواب مسجد شہید گنج کہی جاتی تھی) کو ڈھا کر وہیں گوردوارہ بنایا جائے ۔ اس پر مسلمانوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم رہنماؤں کا ایک وفد انگریز گورنر سے ملا لیکن اس کی شنوائی نہیں ہوئی ۔ اور برطانی سنگینوں کی حفاظت میں سکھوں نے مسجد کو گرادیا۔ اس پر مسلمانوں کا بہت بڑا جلوس نکلا جو اندرون شہر سے دہلی دروازہ کے باہر پہنچا۔ یہاں پولیس نے صف بندی کی۔ مگر جلوس صف بندی کو توڑ کر آگے بڑھ گیا۔ اس کے بعد پولیس اور فوج کے ساتھ مسلمانوں کا خونیں تصادم شروع ہوا جو ۲۸ گھنٹے تک جاری رہا۔ دو دن کے اندر دس بار گولی چلی ۔ تیرہ نوجوان ہلاک ہو گئے اور سیکڑوں مسلمان زخمی ہوئے۔ گورنمنٹ نے مسجد کے انہدام سے پہلے ہی مسلمانوں کے لیڈر ظفر علی خاں وغیرہ کو پکڑ کر جیل میں بند کر دیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader