Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

لاہور میں اجتماعی پروگرام

Urdu book, p. 393

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزی حکومت نے مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لئے مال روڈ پر مسجد شاہ چراغ کو واگذار کر دیا جو تقریباً ۵۷ سال سے انگریزوں کے قبضہ میں چلی آ رہی تھی۔ مگر مسلمان اس پر راضی نہیں ہوئے، مجلس اتحاد ملت کے نیلی پوش رضا کاروں نے سول نافرمانی شروع کر دی۔ ہزاروں نوجوان جیلوں میں چلے گئے۔ مسلمانوں کے تمام لیڈر بھی قید میں تھے۔ ایک نوجوان ابوسعید انور اور اس کے ساتھی بادشاہی مسجد کو اڈاپٹ کر حکومت کے خلاف تحریک چلا رہے تھے۔ اسی کے ساتھ لاہور کی دو مسلم جماعتوں کے درمیان معرکہ گرم ہو گیا۔ دہلی دروازہ کے باہر سرخ رنگ کی دیگیں چڑھی ہوئی تھیں۔ جو شخص ادھر سے گزرتا، احرار اس کی قمیض اتار کر سرخ رنگ میں رنگ دیتے ۔ دوسری طرف موچی دروازہ کے باہر نیلے رنگ کی دیگیں تیار رہتی تھیں۔ یہاں لوگوں کے کرتے نیلے رنگ میں رنگے جا رہے تھے۔ بازاروں میں سرخ پوش اور نیلی پوش کثرت سے نظر آ رہے تھے۔ مجلس احرار کا نشان سرخ رنگ تھا اور مجلس اتحاد ملت کا نشان نیلا رنگ۔ مسجد شہید گنج کی تحریک کے زمانہ میں ان دونوں کا جوش اپنے شباب پر پہنچ گیا تھا۔ چنانچہ وہ عام مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے کپڑے اپنے پسندیدہ رنگ میں رنگنے لگے تھے۔ اس نے مسجد شہید گنج کے مسئلہ کو حل نہیں کیا۔ البتہ اس جنونی عمل کے نتیجہ میں مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان ناقابل بیان نفرت پیدا ہوگئی۔ یہی انجام موجودہ زمانہ کی تمام مشہور مسلم تحریکوں کا ہوا ہے۔ قرآن میں حکم ہے کہ اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان پر سب وشتم نہ کرو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو سب وشتم کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نظر میں اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ اس وقت اللہ انھیں بتادے گا جو وہ کرتے تھے (الانعام ۱۰۹) علما نے کہا ہے کہ اس آیت کا حکم اس امت پر ہر حال میں باقی ہے جب بھی اہل باطل طاقتور حیثیت میں ہوں اور یہ اندیشہ ہو کہ اسلام پر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یا اللہ پر سب وشتم کیا جائے گا تو کسی مسلمان کے لئے جائز نہ ہو گا کہ وہ ان کی صلیب کو یا ان کے دین کو یا ان کے عبادت خانہ کو برا کہے اور نہ کوئی ایسا فعل کرے جس کا یہ نتیجہ نکلنے والا ہو۔ کیونکہ یہ ان کو معصیت پر ابھارنے کے ہم معنی ہے (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۷/۶۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں ایسے ہر اقدام سے منع کیا گیا ہے جو الٹا نتیجہ (کاؤنٹر پروڈکٹو)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page