لاہور میں اجتماعی پروگرام
Urdu book, p. 395
By Maulana Wahiduddin Khan
سکھوں نے شہید گنج کی بالکونی سے "راج کرے گا خالصه" کے نعرے بلند کئے ۔ مسجد بدستور گرتی رہی اگلی صبح تک مسجد کا نام و نشان نہ تھا۔ جب لاٹھی چارج کافی نہیں ہوا تو پولیس نے گولی چلائی جس میں بہت سے مسلمان ہلاک ہو گئے۔ دو دن متواتر مسلمانوں نے گولیاں کھائیں۔ اس سے پہلے سکھوں نے گورو دوبارہ تحریک چلائی تھی ۔ ان کی بے مثال قربانیوں کے بعد گورو دوباره ایکٹ بنا تو گورو دوارے مہنتوں اور ریگامینوں سے لے کر گورو دوباره پر بندھک کمیٹی کے سپرد کئے گئے۔ اس فہرست میں شہید گنج کو بھی شامل کیا گیا۔ نواب مظفر خاں نے سکھوں کا یہ حق تسلیم کر لیا اور انھیں کے دستخطوں سے شہید گنج سکھوں کو ملی تھی۔ مسلمان اپنا دعوی ہار چکے تھے۔ اب گیارہ بارہ سال بعد ان کا دعوائے ملکیت برطانوی قانون کے نزدیک بے معنی تھا۔ آخر کار مورچہ ختم ہو گیا۔ اسی زمانہ میں پیر جماعت علی شاہ نے اعلان کیا تھا کہ اگر شہید گنج مسجد مسلمانوں کے حوالے نہ کی گئی تو وہ شاہی مسجد کے مینار پر چڑھ کر چھلانگ لگا دیں گے۔ مسلمان اس اعلان پر جھوم اٹھے۔ مگر شاہی مسجد کے مینار سراپا انتظار بنے کھڑے رہے۔ پیر صاحب نے عذر تراشا کہ شاہی مسجد کا امام وہابی ہے ، اور وہ آج تک وہاں کی مسجد میں نہیں گئے۔ اس کے بعد ریزولیوشن پاس ہوتے رہے۔ کانفرنسیں ہوتی رہیں۔ نعرے لگے۔ جلسے ہوئے۔ لطف یہ ہے کہ شہید گنج اب بھی اسی طرح پڑی ہے اور اسلامی سلطنت کے دور میں بھی وہ سکھوں کی ملکیت تسلیم کی جاتی ہے: موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے ہمیشہ منفی تحریکیں چلائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا عام مزاج منفی مزاج بن گیا۔ اب مسلمان ہمیشہ اس وقت جوش دکھاتے ہیں جب کہ مسئلہ " مسلم درس نان مسلم " ہو۔ جب نان مسلم نشانہ سے ہٹ جائے تو اس کے بعد مسلمانوں کا جوش عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ خود ہندوؤں کا بھی ہے۔ ہندوستان کے جو ہندو مسلمانوں کے خلاف جوش دکھاتے ہیں وہ اسی لئے ایسا کر رہے ہیں کہ مسلمانوں نے اپنے آپ کو ان کے نشانہ پر کھڑا کر رکھا ہے۔ اگر مسلمان اپنے آپ کو ان کے نشانہ سے ہٹا لیں تو اس کے بعد ان ہندوؤں کا جوش بھی ختم ہو جائے گا۔ اور پھر اجودھیا کے "رام مندر" کا بھی وہی انجام ہوگا جو لاہوری مسجد شہید گنج کا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader