لاہور میں اجتماعی پروگرام
Urdu book, p. 396
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مزاج کا ایک دلچسپ مظاہرہ ستمبر ۱۹۹۱ میں ہوا ہے۔ دور درشن پر بچوں کے ایک پروگرام میں کوئز (Quiz) کے دوران ایک ہندو بچے سے پوچھا گیا کہ "شبو لائے" کی تاریخ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ آزادی سے پہلے مسٹر جناح نے یہ لفظ مولانا ابوالکلام آزاد کے لئے استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں میں دور درشن کے خلاف ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اس قول کی اصل ذمہ داری مسٹر جناح پر ہے۔ مگر مسلمانوں نے کبھی مسٹر جناح کے خلاف ہنگامہ نہیں کیا۔ البتہ یہی لفظ ٹی وی پر ایک ہندو بچہ نے دہرایا تو اس کے خلاف وہ ہنگامہ کرنے لگے۔ وہ یہ مطالبہ لے کر کھڑے ہو گئے کہ ٹی وی کے اس عملہ کو برطرف کیا جائے جس نے اس قسم کا کوئز ٹی وی پر دکھایا ہے۔ لاہور کے سفر کے لئے جب میرا رزرویشن ہوا تو اس کے مطابق ، مجھے ۱۹ ستمبر کو وہاں جانا تھا اور ۲۷ ستمبر کو دہلی واپس آنا تھا۔ یہ مدت میرے لئے غیر معمولی طور پر زیادہ تھی۔ چنانچہ لاہور پہنچتے ہی یہ حال ہو کہ میں دن گننے لگا۔ ایک ایک دن ختم ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ۲۷ ستمبر آگیا جب کہ مجھے یہاں سے روانہ ہونا تھا۔ ۲۷ ستمبر کی صبح کو جب میں اٹھا اور روانگی کی تیاری کرنے لگا تو ایسا محسوس ہوا کہ گویا میں سفر آخرت کی تیاری کر رہا ہوں ۔ میں نے سوچا کہ جس طرح لاہور میں ایک ایک دن ختم ہو کر آخر کار ۲۷ ستمبر آگیا۔ اسی طرح دنیا میں بھی میرے ایک ایک دن گزر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آخر کار وہ لمحہ آ جائے گا جب کہ دنیا سے نکل کر مجھے آخرت کی طرف سفر کرنا ہوگا۔ ایک مدت ختم ہوگئی۔ اسی طرح دوسری مدت بھی ختم ہو جائے گی ۔ پہلی مدت کے خاتمہ پر انسانی سواری مجھے لاہور سے اٹھا کر دہلی پہنچارہی ہے۔ دوسری مدت کے خاتمہ پر فرشتوں کی سواری آجائے گی اور مجھ کو دنیا سے نکال کر آخرکت کے عالم میں پہنچادے گی۔ کیسا عجیب ہے وہ وقت جو آچکا، کیسا عجیب ہے وہ وقت جو آنے والا ہے ۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۹۱ کو پی آئی اے کی فلائٹ ۷۰۲ کے ذریعہ لاہور سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ ایئرپورٹ پہنچا تو معلوم ہوا کہ میری سیٹ کینسل ہو چکی ہے۔ دہلی سے اگر چہ میری واپسی کی سیٹ کنفرم تھی۔ مگرتعدہ کے مطابق، مجھے اپنی سیٹ کو رہی کنفرم کرانا چاہئے تھا۔ مگر میں نہ کر اسکا۔ اس بنا پر حسب قاعدہ میری سیٹ کینسل ہوگئی۔ مگر ایئر پورٹ کے عملہ نے غیر معمولی تعاون دیا۔ مجھے سیٹ دوبارہ مل گئی۔ ایئر پورٹ پر میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانگی کے اعلان کا انتظار کر رہا تھا۔ ان میں جناب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader