لاہور میں اجتماعی پروگرام
Urdu book, p. 398
By Maulana Wahiduddin Khan
مایوس کن جملہ کیوں کہا۔ غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کا اصل سبب موجودہ اخبارات ہیں۔ یہ اخبارات ملک کے اچھے واقعات کو نمایاں نہیں کرتے۔ وہ زیادہ تر برے واقعات کو اپنے صفحات میں نمایاں کرتے ہیں ۔ عام آدمی جو صبح سے شام تک اپنے کام میں مشغول رہتا ہے ، اس کے لئے اخبارات ہی ملکی حالات کو جاننے کا ذریعہ ہیں۔ اخباروں کا ’’ زرد صحافت ‘‘ کا انداز انہیں ملک کے حالات کے صرف ۵۰ فیصد سے باخبر کرتا ہے۔ بقیہ ۵۰ فیصد ان کے لئے لامعلوم بنارہتا ہے۔ اس صورت حال نے سوچنے والے لوگوں میں غیر ضروری طور پر مایوسی کی نفسیات پیدا کر دی ہے۔ حالاں کہ وہ اصل حقیقت کے مطابق نہیں۔ جنازہ میں لاہور کا انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز ( ۲۶ ستمبر ) دیکھا۔ اس کے صفحہ اول اور صفحہ آخر پر لیڈی ڈائنا کی رنگین تصویر تھی۔ اس کے علاوہ بھی اس میں موصوفہ کی بہت سی تصویریں تھیں۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ لیڈی ڈائنا جب بادشاہی مسجد پہنچی تو وہاں کے امام مولانا عبد القادر نے ان کو قرآن کا ہدیہ پیش کیا اور سیرت رسول پر ایک کتاب انھیں عطا کی۔ تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ امام صاحب سے قرآن کا ہدیہ لیتے ہوئے شہزادی ڈائنا نے اپنے سر کو دوپٹے سے ڈھانک رکھا تھا۔ خبر کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی گئی تھی : Diana impressed by Lahore cultural heritage. جہاز میں پی آئی اے کا میگزین ہم سفر (ستمبر۔ اکتوبر 1991) موجود تھا۔ اس میں ایک مضمون کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا میں نمک کے سب سے بڑے ذخائر پاکستان میں ہیں۔ یہاں کے پہاڑوں میں ایک ایسا طویل سلسلہ موجود ہے جو اندر سے مکمل طور پر نمک ہیں۔ ان پہاڑوں کو کوہستان نمک (سالٹ رینج) کہا جاتا ہے۔ دنیا میں نمک کے دوسرے سب سے بڑے ذخائر پولینڈ میں ہیں۔ نمک کی ان کانوں کو ماہرین نے ’’ ارضیاتی عجائب گھر ‘‘ کا نام دیا ہے۔ ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ نمک کے یہ پہاڑ تقریباً چار ارب سال پرانے ہیں۔ نمک کی یہ کانیں ۳۲۲ قبل مسیح میں سکندر اعظم کے زمانہ میں دریافت ہو چکی تھیں۔ کھیوڑہ میں سائنسی بنیادوں پر نمک کی کان کنی کا آغاز ۱۸۴۹ میں انگریزوں کے دور حکومت میں ہوا۔ کھیوڑہ کی کانوں سے ہر روز تقریباً ۳۰ ہزار من نمک نکالا جاتا ہے۔ مضمون میں بہت سی دلچسپ معلومات تھیں۔ نیز یہ بتایا گیا تھا کہ جس مقام سے نمک کے ذخائر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader