ایک سفر
Urdu book, p. 401
By Maulana Wahiduddin Khan
میں شرکت کر سکیں۔ وہ پاکستانی ایئر ویز کے ذریعہ کراچی سے دہلی آئے۔ اور دہلی سے الیتالیہ کے ذریعہ براستہ روم وہ تیونس گئے۔ حکیم صاحب اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں: "اندرا گاندھی ایئر پورٹ پر الاطالیہ سے جب میں نے سوال کیا کہ کیا میرا سامان جو تیونس کے لئے بک ہے ، پی آئی اے سے الاطالیہ میں منتقل ہو گیا ہے۔ تو وہ حیران ہوئے ، اچھا سامان ہے ، گلف پی آئی اے نے تو ہمیں ذرا بھی اطلاع نہ دی۔ ان کا تو اب دفتر بھی بند ہو گیا ہے۔ نہ جانے سامان کہاں ہے۔ میں خود حیران ہو کہ وہ خاتون جو مجھے وی آئی پی کا مرتبہ دینے آئی تھیں۔ انھوں نے میرے سامان کو لاوارث چھوڑ دیا۔ خاصی پریشانی ہوئی۔ اندر ایئر پورٹ پولیس کے لوگ کام آئے۔ سب تلاش میں لگ گئے۔ بالآخر سامان مل گیا اور اسے الاطالیہ میں رکھوا دیا گیا اور میں ۱۲ بجے رات اندر اگاندھی ایئر پورٹ کے خوب صورت لاؤنج میں آ کر بیٹھ گیا۔ (نوائے وقت ، ۱۰ جولائی (۱۹۹۲) ایک بار ایک پاکستانی دانشور نے لکھا تھا: "اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہنود بر وزن یہود ہیں۔" پاکستانی اخباروں کو مذکورہ قسم کے واقعات سے سبق لینا چاہئے اور اپنے عوام کو صحیح صورتحال سے آگاہ کرنا چاہئے"۔ رات کو ایک بجے سوئس ایئر کی فلائٹ نمبر ۱۸ کے اندر داخل ہوا۔ جدید طریقہ کے مطابق ایئر پورٹ اور جہاز کے درمیان معلق پل (Aerobridge) کا انتظام تھا۔ اس کے ذریعہ آدمی نہایت آسانی کے ساتھ چلتا ہوا جہاز کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ مگر مجھ کو ذاتی طور پر قدیم سیڑھی والا طریقہ زیادہ پسند ہے۔ قدیم طریقہ میں ایک رومانی لمس (romantic touch) ہے۔ یہاں قدیم اور جدید میں وہی فرق ہے جو گھوڑے اور موٹر سائیکل میں۔ راستہ میں انٹر نیشنل ہرالڈ ٹریبیون (ا ستمبر ۱۹۹۲) پڑھا۔ اس میں بہت سی سبق آمیز خبریں نظر سے گزرییں۔ اس کے صفحہ پر پچاس سال کی چھپی ہوئی ایک خبر دوبارہ چھاپی گئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ۱۰ ستمبر ۱۹۴۲ کو واشنگٹن حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ اس نے پچاس خاتون پائلٹوں کا انتخاب کیا ہے جو امریکہ میں ہوائی جہاز چلائیں گی۔ اس وقت ایئر ٹرانسپورٹ کمانڈ کے ڈپٹی چیف لفتننٹ کرنل رابرٹ لو (Robert M. Love) نے پُر فخر طور پر کہا تھا کہ اب میں یہ لفظ نہیں بولوں گا کہ ھمارا مین پاور بلکہ یہ کہوں گا کہ مین ایٹ ٹروومن پاور:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader