ایک سفر
Urdu book, p. 402
By Maulana Wahiduddin Khan
I shall not say our man power, but of our man and woman power. اس منصوبے کے مطابق اب امریکہ (اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں مرد پائلٹ اور خاتون پائلٹ کی تعداد برابر ہونی چاہئے ۔ مگر ۱۹۴۴ کا یہ اعلان حقیقت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی تھا۔ میں نے بار بار مغربی ملکوں میں سفر کئے ہیں اور تقریبا ہر بڑی ہوائی کمپنی کے جہاز میں بیٹھا ہوں مگر میرے تجربے میں ایک بار بھی کوئی خاتون پائلٹ نہیں ملی ۔ خاتون پائلٹ آج بھی تقریبًا انہیں کے برابر ہیں۔ فطرت کے مطابق اقدام آدمی کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، اور فطرت کے خلاف اقدام صرف بربادی اور ناکامی کی طرف۔ سوئس ایئر کا ماہ ستمبر کا فلائٹ میگزین (Swissair gazette) دیکھا۔ اس کے اداریہ میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت تقریبًا تمام بڑی بڑی ہوائی کمپنیاں گھاٹے پر چل رہی ہیں۔ آئی اے ٹی اے (IATA) کی ممبر کمپنیوں کے بارہ میں اندازہ کیا گیا ہے کہ ۱۹۹۲ میں ان کی کل آمدنی ۳۰۰ ملین ڈالر ہوگی جب کہ ان کا مجموعی خرچ چھ بلین ڈالر ہوگا۔ سوئس ایئر بھی خسارہ کے مسئلہ سے دوچار ہے چنانچہ اس کی موجودہ حکمت عملی ہے ـــــ پیداواری عمل کو بڑھانا اور خرچ کو گھٹانا : raising productivity and reducing costs سفر کے دوران جہاز میں اعلان کیا گیا کہ اب ہم جرمنی کے اوپر سے گزر رہے ہیں۔ یہ سن کر جرمنی سے متعلق کچھ یادیں تازہ ہو گئیں ۔ جرمنی سے ہندوستان کے کئی تاریخی واقعات وابستہ ہیں۔ ان میں سے ایک نیتا جی سبھاش چندر بوس کی جرمنی میں آمد ہے۔ وہ ان دنوں کلکتہ میں اپنے گھر کے اندر نظر بند تھے۔ انھوں نے اپنی داڑھی کو منور نہ چھوڑ دیا۔ دو مہینہ میں جب داڑھی بڑھ گئی تو انھوں نے مولوی کا بھیں بدلا اور کلکتہ سے بذریعہ ٹرین پشاور پہنچے ۔ اور وہاں سے کابل گئے۔ اس کے بعد لمبا سفر طے کرتے ہوئے ۳ اپریل ۱۹۴۱ کو برلن پہنچ گئے ۔ سبھاش چندر بوس چونکہ کے اس اصول پر یقین رکھتے تھے کہ "دشمن کا دشمن اپنا دوست ہوتا ہے" چنانچہ وہ برطانیہ کے دشمن ایڈولف ہٹلر سے برلن میں ملے۔ ہٹلر کھل کھلمامد د کرنے پر راضی نہ ہوا۔ البتہ اس نے مخفی طور پر ان کے لئے کئی مدد فراہم کی۔ انھوں نے برلن میں فری انڈیا سنٹر قائم کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader