ایک سفر
Urdu book, p. 403
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی کے ساتھ انھوں نے جاپان سے ربط قائم کیا۔ جاپانیوں نے دوسری عالمی جنگ کی ابتدا میں جب پینانگ پر قبضہ کیا تو برطانی فوج کے بہت سے ہندوستانی سپاہی گرفتار ہو کر جاپان لے جائے گئے۔ سبھاش چندر بوس کی درخواست پر جاپان نے ان ہندوستانی سپاہیوں کو رہا کر کے انھیں سبھاش چندر بوس کے حوالے کر دیا۔ انھوں نے دوسرے ہندوستانی افراد کو ملا کر آزاد ہند فوج بنا لی۔ اس تربیت یافتہ فوج کے تین ڈویژن تھے۔ ان میں سے ہر ڈویژن میں ہزار مسلح سپاہی تھے۔ اس کے علاوہ ۲۰ ہزار والینٹیر تھے۔ اکتوبر ۱۹۳۹ میں سبھاش چندر بوس نے انڈیپنڈنٹ انڈین گورنمنٹ کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد وہ رنگون کے راستے سے ہندوستان کی سرحد پر پہنچ گئے۔ یہاں ان کا مقابلہ برطانی فوج سے ہوا۔ برطانی فوج کے پاس ہوائی جہاز تھے۔ مگر سبھاش چندر بوس کی فوج کسی ہوائی حمایت (aerial support) سے خالی تھی۔ چنانچہ اس کو شکست ہوئی۔ ۱۹ اگست ۱۹۴۵ کو سبھاش چندر بوس ایک حادثہ کا شکار ہو کر مر گئے۔ سبھاش چندر بوس نے برٹش راج کے خلاف مسلح بغاوت (armed revolt) کا منصوبہ بنایا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے خون دو اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ تم کو آزادی دوں گا: Give me blood and I promise you freedom. ہزاروں آدمی سبھاش چندر بوس کی اس پکار سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے اپنا خون پیش کر دیا۔ مگر مسٹر بوس سمیت ہزاروں آدمیوں کا خون کوئی نتیجہ پیدا نہ کر سکا۔ دوسری طرف مسٹر بوس مہاتما گاندھی کے سخت خلاف تھے۔ وہ گاندھی جی اور ان کے غیر تشددانہ اور مصالحانہ انداز (conciliatory attitude) کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو مہاتما گاندھی آزادی کا انقلاب لانے میں کامیاب ہوگئے۔ اور سبھاش چندر بوس ناکام رہے۔ جرمنی میں ہم جنسی کے تعلقات کا رواج ہے۔ مگر اس قسم کے تعلق کو قانونی حیثیت حاصل نہیں جیسا کہ مثلاً ڈنمارک اور نیوزی لینڈ میں ساتھ رہنے کے معاہدہ (cohabitation contract)' کے نام پر موجود ہے۔ چنانچہ اگست ۱۹۹۲ کے آخر میں جرمنی کے تقریباً پچاس شہروں میں جرمن مردوں اور عورتوں کے ایک طبقہ نے مظاہرہ کیا وہ سڑکوں پر گھومے اور یہ مانگ کی کہ ہم جنس کی شادی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader