ایک سفر
Urdu book, p. 406
By Maulana Wahiduddin Khan
سکتے ہیں۔ مگر محرومی کے نظریے نے ان سے یہ دولت چھین لی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ محرومی کے احساس میں مبتلا ہوں وہ کبھی یافت کا پیغام دینے والے نہیں بن سکتے۔ زیورک سوئٹزر لینڈ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ جہاز میں ویڈیو پر اس کے جو منظر دکھائے گئے اس میں وہ خوب صورت شہر کے روپ میں نظر آ رہا تھا۔ تصویر میں یہ دنیا بے حد حسین ہے۔ مگر حقیقت میں وہ ایسی حسین اور پر راحت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا کے ساتھ خوف اور حزن لگا ہوا ہے اس خوف اور حزن نے اس کو ساری معنویت کے باوجود بے معنی بنا دیا ہے۔ آخرت میں جب خوف اور حزن کو اس سے نکال لیا جائے گا تو دنیا اتنی پر لطف ہو جائے گی کہ آدمی ابدی طور پر اس سے محفوظ ہوتا ہے مگر وہ کبھی اس سے سیر نہ ہو۔ سوئٹزر لینڈ میں اور اسی طرح تمام یورپ میں مسافر کو ہر طرح کا تعاون دیا جاتا ہے۔ مثلاً سوئٹزرلینڈ میں آپ کو ٹرین سے سفر کر کے ایک ایسے شہر میں پہنچنا ہے جہاں سے آپ کو ہوائی جہاز پکڑنا ہے تو آپ آغاز ہی میں اپنے سامان کو ریلوے کے عملہ کو دیدیجئے ۔ آپ کا سامان ٹرین سے اتار کر ہوائی جہاز میں پہنچا دیا جائے گا۔ اور پھر اسی طرح آپ کی منزل پر آپ کو مل جائے گا۔ زیورک میں اگلے جہاز کے لئے ایک گھنٹہ قیام کرنا پڑا۔ زیورک کا ایئر پورٹ بہت بڑا ہونے کے ساتھ بہت عمدہ اور منظم تھا۔ ایک مقام پر دیوار کے اوپر چمکدار حروف میں لکھا ہوا نظر آیا: ...your efficiency is our business. آپ کی ایفیشینسی ہمارا بزنس ہے، یہ چیز عملاً بھی یہاں ہر طرف نظر آئی۔ میں نے سوچا کہ انڈیا کے لوگ بھی اگر چہ اس قسم کے الفاظ بولتے ہیں مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے کہا جائے تو انڈیا کا ماٹو شاید یہ ہوگا : to exploit you is our business زیورک (Zurich) سوئٹزرلینڈ کا سب سے بڑا صنعتی مرکز ہے۔ یہاں دور تاریخ سے پہلے انسانی آبادی قائم ہو چکی تھی۔ ۵۸ ق م میں رومیوں نے اس علاقے کو فتح کیا۔ اس کا موجودہ نام انہیں کا دیا ہوا ہے۔ تیسری صدی عیسوی میں یہاں تین مسیحی مبلغوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اسی مقام پر آج یہاں کا کیتھیڈرل بنا ہوا ہے۔ رومی حکومت کے خاتمہ کے بعد یہاں فرانس کے مسیحیوں کی سلطنت قائم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader