Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 407

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئی ۔ اسی زمانے میں شارلی مین (Charlemagne) نے موجودہ کیتھڈرل تعمیر کرایا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ہارون الرشید بغداد کا خلیفہ تھا۔ نیو یارک کا ایئر پورٹ سوئزر لینڈ کا سب سے زیادہ مصروف ایئر پورٹ ہے۔ یہاں سے ستر ملکوں کے ۱۱۰ شہروں کے لئے ڈائرکٹ فلائٹ حاصل کی جاسکتی ہے۔ اتصالات کے یہ کیسے عجیب مواقع ہیں جو موجودہ زمانہ میں ہر طرف کھل گئے ہیں اور حق کے داعیوں کو خاموش زبان میں پکار رہے ہیں کہ آؤ ، ان نئے مواقع کو استعمال کرو اور خدا کا کلمہ خدا کے تمام بندوں تک پہنچا دو۔ نیو یارک ایئر پورٹ پر ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مگر آجکل وہ جرمنی میں مقیم ہیں۔ وہ اس کانفرنس میں شریک تھے جو جرمنی کی وشو ہندو پریشد کی طرف سے اگست ۱۹۹۲ کے آخر میں فرینکفرٹ کی گوٹے یونیورسٹی میں منعقد کی گئی ۔ واضح ہو کہ گوٹے (J.W.V. Goethe) نے کالی داس کا جرمن ترجمہ پڑھا تھا اور وہ اس کے خیالات سے متاثر تھا (10/376) اس کانفرنس کی تھیم تھی ۔ ہند و ازم جدید دنیا میں : Hinduism in the modern world مذکورہ ہندو پروفیسر نے کہا کہ ہندو ازم کا خلاصہ وحدت انسانی (One world family) اور عدم تشدد (Non-violence) ہے مگر یہ تاریخ کا عجیب المیہ ہے کہ وہ مذہب جس میں اتنی وسعت ہے کہ وہ منکرين مذہب تک کو اپنے دائرہ میں لے لیتا ہے ، وہ اس وقت تعصب کے الزام کے مقابلہ میں اپنے دفاع پر مجبور ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہندو مذہب کے بارہ میں جو غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں ان کا دفعیہ کریں ، ورنہ بالآخر وہ ہندوستان کی تصویر بگاڑنے والی ثابت ہوں گی : We want to counter the disinformation now spreading regarding the Hindu religion; otherwise it will ultimately affect the image of India. میں نے کہا کہ اگر آپ ہندو ازم کی تصویر کو بگڑنے سے بچانا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ اس عمل کو بدلیں جو انڈیا یا میں وشو ہندو پریشد انجام دے رہی ہے۔ اس قسم کی تقریری کانفرنسوں سے تصویر درست ہونے والی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page