Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 411

By Maulana Wahiduddin Khan

کے پاس موجود ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہندوستان اب تک ایک غیر ترقی یافتہ ملک بنا ہوا ہے۔ اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ ہندوستان کا مذہب لکشمی پوجا ہے اور مغرب کا مذہب جیون پوجا، ہندوستانی آدمی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جیسے بھی ہو نہ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرے۔ اس کے مقابلہ میں مغربی انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے زندگی کو بہتر بنائے۔ ہندوستانی آدمی زر اندوزی کو سب کچھ سمجھتا ہے جب کہ مغرب کے آدمی کے لئے سب کچھ یہ ہے کہ وہ حیات مادی کی تعمیر کرے ـــــــــ سوچ کا یہی فرق ہے جس نے دونوں دنیاؤں میں وہ فرق پیدا کر دیا ہے جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ ۱۳ ستمبر کو ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد ڈاکٹر لیونارڈو شہر دکھانے کے لئے گئے۔ ڈاکٹر ثانی اسٹین بھی میرے ساتھ تھے۔ شہر کا کچھ حصہ کار پر بیٹھ کر دیکھا۔ اس کے بعد میں نے ڈاکٹر لیونارڈو سے کہا کہ شہر کو زیادہ اچھی طرح دیکھنے کے لئے پیدل چلنا چاہئے۔ اس لئے اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو گاڑی کسی مقام پر پارک کر دیں اور ہم لوگ پیدل چل کر شہر کو دیکھیں۔ انھوں نے اتفاق کیا۔ چنانچہ گاڑی مسجد کے پاس پارک کر دی گئی اور ہم لوگ شہر دیکھنے کے لئے چل پڑے۔ برو سیلز نہایت منظم اور نہایت خوب صورت شہر ہے۔ سڑکیں نہایت عمدہ اور صاف ستھری ہیں۔ کہیں ٹوٹ پھوٹ کا منظر دکھائی نہیں دیتا۔ چاروں طرف گاڑیاں دوڑ رہی تھیں۔ گمر نہ ہارن کی آواز تھی اور نہ دھواں۔ خوب صورت فٹ پاتھ ہیں مگر خواجہ فروشوں کا کہیں وجود نہیں۔ پارک میں گم شور وغل نہیں۔ دکانیں ہیں مگر لوٹ نہیں۔ سرگرمیاں ہیں مگر بے قاعدگی نہیں، مکانات ہیں مگر غیر قانونی تعمیرات نہیں۔ سارا شہر ایک ڈھلا ہوا ماڈل نظر آتا ہے۔ ایک سڑک پر چلتے ہوئے ایک بہت بڑی عمارت نظر آئی۔ سیکڑوں لوگ اندر داخل ہونے کے لئے لمبی قطار میں کھڑے ہوئے تھے۔ اس کے گیٹ پر مقامی تلفظ میں لکھا ہوا تھا پارلی منٹ (Parlement) سامنے بڑا سا جھنڈا لہرا رہا تھا جس کے اوپر بارہ ستارے بنے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ "یورپین پارلی منٹ " ہے۔ متحدہ یورپ کا تصور اس وقت مغربی یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ چنانچہ اس کے بارہ میں شریک ملکوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بارہ ستاروں کا جھنڈا اپنایا گیا ہے۔ اگر چہ ملکی قومیت کے ماننے والے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مگر اس تحریک نے عملی صورت اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اور اگر کسی وقت یورپ متحد ہو گیا تو یقینی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page