ایک سفر
Urdu book, p. 410
By Maulana Wahiduddin Khan
کئی ٹیلی فون کے آخیر کار ان کو معلوم ہو گیا کہ میں بروبسلز کے ہیلسن ہوٹل کے کمرہ نمبر ۱۳۲ میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ انھوں نے بہت بتایا کہ عرب نوجوانوں کی ایک جماعت لندن میں اور دوبارہ عرب نوجوانوں کی ایک جماعت قاہرہ میں میرا انتظار کر رہی ہے۔ اس لئے میں اپنا ٹکٹ رہی روٹ کرا کر واپسی میں لندن اور قاہرہ ہوتے ہوئے دہلی واپس جاؤں۔ اس واقعہ کے بعد مجھے فارسی کا مثل یاد آ گیا کہ ڈھونڈنے والا پاتا ہے (جو یتندہ یا بندہ انسانی دماغ کی یہی وہ صلاحیت ہے جس کی بنا پر وہ قیامت کے یوم الحساب میں مسئول قرار پاتا ہے کیونکہ انسان اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اس پوزیشن میں ہے کہ وہ حقیقی طور پر جس چیز کا طالب ہو اس کو وہ جان سکے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص موجودہ دنیا میں زندگی گزارتا ہے مگر وہ حق سے بے خبر رہتا ہے تو یہ لازمی طور پر اس کی اپنی کوتای ہے۔ اور جو شخص کوتاہی کرے وہ اس عالم اسباب میں اس کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔ مجھے ٹیلی ویژن سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس لئے کمرہ کے ٹی وی سیٹ کو استعمال کرنے کا خیال بھی مجھے نہیں آتا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ سرہانے کی چھوٹی میز پر ریمیوٹ کنٹرول کا سگریٹ پیکٹ جیسا آلہ رکھا ہوا، تھا۔ اس کا سویچ اتفاق سے دب گیا۔ اس کے بعد ٹی وی سیٹ کے شیشہ پر نہایت عمدہ رنگین تصویریں آنے لگیں۔ دیکھا تو سمندر دی زنگی اور جنگل کی زندگی کے مناظر دکھائے جا رہے تھے۔ فطرت کا یہ منظر حیران کن حد تک عجیب تھا۔ محویت کے ساتھ اس کو دیکھتا رہا۔ اس کو دیکھ کر یہ آیت زبان پر آ گئی : فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ . قرآن میں فطرت کے مشاہدہ اور آیات کون پر غور وون کر کے لئے بہت زور دیا گیا ہے۔ اور اس کے علم کو خشیت الہی کا ذریعہ بتایا گیا ہے (إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰو) اس سے معلوم ہوا کہ معرفت الہی کا اصل ذریعہ کائنات میں پھیلی ہوئی قدرت کی نشانیوں پر غور کرنا ہے۔ ہمارے ہوٹل سے لووین کا فاصلہ ۳۰ کلومیٹر ہے۔ ۱۲ستمبر کی شام کو جب میں اپنے ساتھی کے ہمراہ کار میں وہاں کی تقریب میں شرکت کے لئے جا رہا تھا تو سارے راستہ میں صنعتی ترقی کے مناظر دکھائی دئے سڑکوں سے لے کر عمارتوں تک ہر چیز واضح طور سے ہندوستان سے مختلف نظر آئی۔ یہی تمام مغربی ملکوں کا حال ہے۔ میں نے سوچا کہ مغرب کے وسائل سے زیادہ وسائل ہندوستان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader