Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 413

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ملک میں قانون کے مطابق پولیس فوج یا لائسنس اسلحہ رکھنے والا کوئی بھی فرد شہری علاقوں میں اسلحہ کی نمائش نہیں کر سکتا۔ فوج کو عام حالات میں آبادی میں یونیفارم میں آنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ قانونی طور پر فوج مسلح یونیفارم میں صرف ایمرجنسی کی صورت میں آبادی میں آنے کی مجاز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیلجیم میں فوج کی چھاؤ نیاں آبادی سے دور بنائی جاتی ہیں تاکہ عوام کا فوجی چھاؤنی سے گزر بھی نہ ہو سکے۔ جس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں کی حکومت کے خیال میں آبادی کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے افراد کے پاس اسلحہ سے عام شہری کے خوف زدہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس طرح عوام اپنے مقابلہ میں پولیس یا فوج کو برتر خیال کر سکتے ہیں۔ پولیس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پولیس اسلحہ کے بغیر اپنے فرائض انجام دیتی ہے اور صرف ضرورت کے وقت مسلح نظر آتی ہے۔ پولیس کا عوام سے رویہ نہایت دوستانہ اور ہمدردانہ ہوتا ہے۔ جرائم کی روک تھام کے علاوہ پولیس عوام کی ذاتی مشکلات میں امداد بھی کرتی ہے جس کی مثال دیتے ہوئے سمٹ روننی نے کہا کہ اگر کسی شخص کی گاڑی راستے میں خراب ہو جائے تو پولیس خراب گاڑی کو درست کرنے میں مدد کرتی ہے یا اس شخص کو سرکاری سواری میں منزل مقصود تک لے جاتی ہے۔ پاکستان سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہاں جگہ جگہ مسلح پولیس والے نظر آتے ہیں جو کہ عوام کے دوست ہونے کے بجائے اتھارٹی کا تاثر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں جب مسلح پولیس والوں کو دیکھتے ہیں تو تحفظ کی بجائے خوف محسوس کرتے ہیں۔ سیاحت کے حوالے سے اخراجات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ان کا کل خرچہ ۵۵ ہزار روپے کے قریب ہوا ہے اور بیلجیم میں ان کی تنخواہ ماہانہ ۷۲ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ وہ ہر سال بونس ملنے پر چھٹیوں میں آسانی سے غیر ملکی سیاحت کے لئے نکلتے ہیں۔ یوں وہ ہر سال ایک یاد و ملک کی سیاحت کرتے ہوئے پوری دنیا دیکھنے کا خواب پورا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں (صفحہ ۴ ۱۳ ستمبر کو ہم نے برو سیلز کی جامع مسجد دیکھی۔ یہ مسجد شہر کی نہایت اہم سڑک کے کنارے واقع ہے۔ اس کا جائے وقوع نہایت شاندار ہے۔ اس کے ایک طرف مصروف سڑک کے کنارے شہر کی پرشوکت تجارتی عمارتیں کھڑی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف بے حد وسیع پارک ہے۔ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page