Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 417

By Maulana Wahiduddin Khan

تک پہنچائیں۔ شام کا کھانا فیکلیٹی کلب" میں تھا۔ یہ لووین یونیورسٹی کے تحت ہے اور اپنی وسعت کے اعتبار سے خود ایک پوری دنیا ہے۔ میں نے قصدًا گوشت نہیں لیا۔ صرف سادہ سبزی پر قناعت کی ۔ کھانے سے فراغت کے بعد ہم لوگ باہر گیٹ پر آئے۔ میرے ساتھ ڈاکٹر لیونارڈ اور ڈاکٹر شانی اتنین تھے ۔ گیٹ پر کھڑے ہوئے آدمی نے حسب قاعدہ وائی ٹاکی پر، ہمارے ڈرائیور کو آواز دی ۔ وہ ابھی کھانے میں مشغول تھا اس لئے وہ چند منٹ کی تاخیر سے پہنچا۔ گیٹ پر ہم لوگوں کو کھڑا دیکھ وہ دوڑتا ہوا ! اس مقام پر گیا جہاں گاڑیاں پارک کی گئی تھیں۔ اور فوراً ہی گاڑی لے کر آگیا۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے وہ آیت یاد آگئی کہ اذانودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله۔ میں نے سوچا کہ آج دنیا کے بے شمار لوگ تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہے ہیں مگر دین کے لئے کوئی دوڑنے والا نہیں۔ اگر بظاہر کوئی شخص دین کے لئے دوڑ رہا ہے تو وہ بھی دین کے اس پہلو کے لئے ہے جس میں دنیوی اور مادی قدر پیدا ہو چکی ہے۔ دینی سرگرمیوں کے ہجوم میں دین کا وہ میدان بالکل خالی پڑا ہوا ہے جہاں دوڑنے میں کوئی دنیوی یا مادی کشش موجود نہیں۔ اس کانفرنس میں اٹلی کے لوگ کثرت سے شریک ہیں۔ ہوائی جہاز سے آنے والوں کے علاوہ ایک اسپیشل ٹرین روم سے یہاں آئی جس میں دو ہزار اطالوی سفر کر کے برویسلہ پہنچے ہیں۔ روم سے آنے والے ایک صاحب سے بات ہو رہی تھی۔ انھوں نے میرا کپڑا دیکھ کر پوچھا کہ اس کو انڈیا میں کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کرتا۔ پھر میں نے کہا کہ عربی میں اس کے لئے قمیص کا لفظ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اٹالین میں اس کو کیمیشا (Kamisha) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عربی اور اٹالین میں بہت سے مشترک الفاظ موجود ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ اول میں عربوں اور اطالیوں کے درمیان کتنا زیادہ تعلق پایا جاتا تھا۔ ۱۴ ستمبر کو کانفرنس کے تمام شرکا کا مختلف گروپوں میں تقسیم کر دئے گئے۔ ہر گروہ کے لئے الگ الگ موضوع مقرر کر دیا گیا جس پر وہ ڈسکشن کریں۔ اس طرح آٹھ الگ الگ ہال میں آٹھ الگ الگ اجتماعات ہوئے۔ ہر ایک میں کچھ منتخب لوگوں نے اپنے پیپر پیش کئے اور اس کے بعد ان پر بحث و تنقید ہوئی ۔ موضوعات حسب ذیل تھے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page