ایک سفر
Urdu book, p. 416
By Maulana Wahiduddin Khan
وسیع ہال میں دو ہزار سے زیادہ اعلی تعلیم یافتہ مرد اور عورت موجود تھے۔ اس سے متصل ایک کمرہ میں اخباری رپورٹروں کا انتظام تھا۔ یہ کمرہ اتنا بڑا تھا کہ وہ خود ایک ہال کی مانند نظر آرہا تھا۔ یہاں مختلف یورپی اخباروں کے نمائندے کثیر تعداد میں جدید ترین سامانور کے ساتھ موجود تھے۔ افتتاحی اجلاس میں زیادہ تر رسمی انداز کی تقریریں ہوئیں ۔ ہر مذہب کے نمائندہ نے اپنے مذہب میں امن اور انسانی ہمدردی کی اہمیت بیان کی۔ جاپان کے بدھسٹ پیشوا اتائی یمادا (Etair Yamada) نے بدھزم کی طرف سے جاپانی زبان میں تقریر کی۔ ان کی عمر 9 سال ہو چکی ہے۔ وہ دھبیل چیئر کے ذریعہ ہال تک پہنچائے گئے تھے۔ زمبابوے کے وزیر اعظم را برٹ موگابے (Robert G. Mugabe) نے انگریزی زبان میں پر جوش تقریر کی۔ ان کی تقریر پر سب سے زیادہ تالیاں بجائی گئیں۔ انھوں نے کہا کہ مسیح نے (اور دوسرے مذہبوں نے) یہ تعلیم دی ہے کہ پڑوسی کو اس کا حق دو ۔ اس کا تعلق صرف فرد سے نہیں بلکہ قوموں سے بھی ہے۔ آج ہر قوم کا ایک "پڑوسی" ہے اور اس پڑوسی کے ساتھ اس کو مذہبی حکم کی تعمیل کرنا چاہئے۔ اس کے بعد انھوں نے بہت سے نام گنوائے۔ مثلاً یہودی کے پڑوسی فلسطینی ہیں۔ ہندوؤں کے پڑوسی ہندوستانی مسلمان ہیں۔ جگہ جگہ مسلمانوں کے پڑوسی مسیحی ہیں اور مسیحی کے پڑوسی مسلمان وغیرہ۔ 1- سلام کی نمائندگی تیونس کے مفتی اعظم محمد مختار اسلامی نے کی۔ ان کی تقریر عربی میں ہوئی ۔ تمام تقریروں کے ترجمے عین اسی وقت مختلف زبانوں میں کئے جاتے رہے۔ افتتاحی اجلاس کا اہتمام غیر معمولی حد تک بڑے پیمانہ نہ پر کیا گیا تھا۔ اس کا ہر جزء نہایت منظم اور باقاعدہ تھا۔ میرے قریب کی کرسی پر سوڈان کے شیخ اسحاق ادریس بیٹھے ہوئے تھے۔ آجکل وہ رابطہ العالم الاسلامی (جدہ) سے وابستہ ہیں۔ ان سے میں نے کہا کہ : المسلمون لا يستطيعون ان يخططو امثل هذا التخطيط مع انهم يمتلكون كل الامكانيات فما هو السبب. انھوں نے فوراً جواب دیا کہ انانیت۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی بڑھی ہوئی انانیت نے انھیں اس کے لئے نا اہل کر دیا ہے کہ وہ کوئی بڑا اجتماعی منصوبہ تیار کریں اور اس کو تکمیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader