ایک سفر
Urdu book, p. 424
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو کچھ سمجھ لیتا ہے ۔ حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کچھ اور ہوتی ہے۔ اس کی بد ترین مثال موجودہ زمانہ کے " اسلامسٹ" ہیں۔ وہ جگہ جگہ پر تشدد عمل چیٹڑے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلامی حکومت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حالاں کہ باعتبار حقیقت وہ بر بادی کے سوا کسی اور منزل پر پہنچنے والے نہیں۔ الجزائر کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ جیسا کہ معلوم ہے ، وہاں کے بر سر اقتدار طبقہ نے انتخابات کو معطل کر کے اسلام پسند جماعت کو اقتدار میں آنے سے روک دیا تھا۔ اب وہاں کی حکومت اور وہاں کے اسلام پسند طبقہ کے درمیان مسلسل کش کش جاری ہے۔ حکومت اپنی پولیس کو اسلام پسند طبقہ کی سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ اس کے جواب میں اسلام پسند طبقہ یہ کر رہا ہے کہ اس نے ناجائز ہتھیار جمع کر لئے ہیں اور پولیس افسروں یا سرکاری شخصیتوں کو اپنی گولی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہوتے ہیں۔ مذکورہ الجزائری نے بہت پاکر " اسلامی سیاست" کے ظہور سے پہلے الجزائر ایک بہترین ملک تھا۔ مگر نام نہاد اسلام پسندوں نے الجزائر کو ہر اعتبار سے تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ آخری اجلاس میں ڈائس پر جو چند افراد تھے ، ان میں سے ایک پولینڈ کے کارڈینال جوزف گلمپ (Jozef glemp) تھے۔ وہ مسیحی دنیا میں پوپ کے بعد نمبر ۲ کی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے ڈرچ زبان میں تقریر کی جس کا ترجمہ میں نے عربی زبان میں سنا جو ایک مسیحی مترجم کر رہا تھا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں رجال دین خدا سے دور ہو گئے اس لئے خدا بھی ان سے دور ہو گیا ہے۔ اس کو سن کر میں نے سوچا کہ ایک مسلم عالم بھی اپنی تقریر میں یہی کہتا ہے اور مسیحی عالم بھی یہی کہہ رہا ہے۔ پھر دونوں میں کیا فرق ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے لئے بہت زیادہ قابل توجہ ہے جو صرف اس قسم کے کلمات بولنے کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں۔ ۱۵ ستمبر کی سہ پہر کو دعا (prayer) کا پروگرام تھا۔ تمام لوگ گاڑیوں کے ذریعہ ایک مقام پر لے جائے گئے ۔ وہاں سے تقریباً ایک کلومیٹر کا سفر پیدل طے کیا گیا۔ سڑک کے دونوں طرف مقامی لوگ کھڑے ہوئے تالیوں کے ذریعہ شرکا کا نفرنس کا استقبال کر رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader