Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 425

By Maulana Wahiduddin Khan

اگلے مقام پر ہر ہندو مذہب والوں کے لئے الگ الگ عبادت گاہ کا انتظام کیا گیا تھا۔ اہل اسلام کے لئے ایک بڑے ہال کو خالی کمرے کی مانند بنایا گیا تھا۔ ہم لوگ تقریباً ۲۰ آدمی وہاں جمع ہوئے۔ کچھ دیر دینی موضوعات پر گفت گو ہوئی۔ پھر ایک عرب شیخ کی امامت میں ظہر اور عصر کی نماز جمع تقدیم کے ساتھ ادا کی گئی۔ امام مصلے پر کھڑے ہوئے تو انھوں نے مقتدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: صلاة الظهر والعصر جمعا وقصراً۔ اذان سے لے کر نماز تک کا پورا عمل ٹیلی ویژن کے لوگ ریکارڈ کرتے رہے۔ ہال کے کنارے بڑی تعداد میں کھڑے ہوئے لوگ ہماری نماز کو دیکھ رہے تھے۔ نماز کے بعد پورا قا فلہ ایک میدان میں جمع ہوا جو خاص طور پر اسی کے لئے بنایا گیا تھا۔ یہاں شرکا کا نفرنس کے علاوہ مقامی لوگ لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوئے۔ وسیع میدان پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ یہاں امن (Peace) کے موضوع پر تقریریں اور دعائیں ہوئیں۔ کچھ اور رسوم ادا کرنے کے بعد یہاں سے روانہ ہو کر دوبارہ ہوٹل میں آگئے۔ جاپان کے بدھوؤں کی ایک ٹیم کا نفرنس میں شریک ہوئی۔ ان کے علاوہ دو آدمی اور جاپان سے آئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب انگریزی بول سکتے تھے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے: Yasuni Hirose, President, Jinrui Aizenkai Ten' Onkyo, Kameoka, Kyoto, Japan انھوں نے بتایا کہ وہ شنٹو مذہب کے ماننے والے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو اسلام سے خاص دلچسپی ہے۔ کیوں کہ ہم لوگ موحد ہیں۔ ہم نے کبھی جاپان کے بادشاہ کو کامی (خدا) نہیں مانا۔ اس کی وجہ سے پہلے ہم مسلسل تعذیب (Persecution) کا شکار رہتے تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد خود جاپان میں یہ عقیدہ ختم ہوگیا کہ ہمارا بادشاہ کامی (خدا) ہے ۔ اس لئے اب ہم کو آزادانہ کام کرنے کے مواقع حاصل ہو گئے ہیں۔ اسی طرح البانیہ کے مفتی الحافظ صبری کو توسی (۷۰ سال) نے بتایا کہ قدیم کمیونسٹ حکومت وہاں کے مسلمانوں پر بے حد ظلم کرتی تھی۔ خود مفتی صاحب ۲۱ سال تک شديد مشقت کے ساتھ جیل میں رہے ہیں۔ کمیونسٹ حکومت نے مدرسے بند کر دئے، مسجدیں ڈھادیں ۔ مگر بالآخر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page