ایک سفر
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا کہ یوں نہ کہئے۔ بلکہ اس طرح کہئے کہ آپ کا انداز پر ور بلیٹی (pro-reality) انداز ہے۔ میرا کسی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ میں حقیقت پسندی کی بات کرتا ہوں ۔ مگر لوگوں کے منفی ذہن کی وجہ سے وہ انھیں حکومت پسندی کی بات معلوم ہوتی ہے۔ الرسالہ میں ایک بار ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کا ذکر تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اس جنگ میں پاکستان کامیاب نہ ہو سکا ، اور اس کی وجہ اس کی کمتر تیاری تھی۔ اس کے مقابلہ میں ہندوستانی فوج نے زیادہ بہتر منصوبہ بندی کا ثبوت دیا ، اس لئے وہ پاکستان کی پیش قدمی کو روک دینے میں کامیاب رہے ۔ یہ تذکرہ صرف بطور سبق تھا۔ مگر الرسالہ کے بہت سے پاکستانی خریدار اس پر سخت ناراض ہوئے حتی کہ انھوں نے الرسالہ کو پڑھنا بند کر دیا۔ یہاں اخبار نوائے وقت ۲۵ ستمبر ۱۹۸۹ میں ایک مضمون اصل حقائق پڑھنے کو ملا۔ یہ اخبار بیک وقت لاہور، راولپنڈی، ملتان، کراچی سے شائع ہوتا ہے۔ ایک سابق فوجی افسر ابوذر غفاری نے جو کچھ لکھا تھا ، اس کا ایک حصہ عبرت کے طور پر یہاں نقل کیا جاتا ہے : ” پاک فوج کے چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل مرزا محمد اسلم بیگ نے ۱۲ ستمبر ۱۹۸۹ کو جی ایچ کیو آڈیٹوریم میں ملک بھر کے ایڈیٹروں اور سینئر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دئے تھے۔ انھوں نے جب یہ کہا کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ، ہم نے نہ جیتی نہ ہاری اور یہ کہ ۱۹۷۱ء کی جنگ ہم ہار گئے تو اس نے ہر فوجی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہوگا کہ وہ ان دونوں جنگوں کا دوبارہ جائزہ لیں۔ جنرل صاحب کا یہ کہنا حقائق کے عین مطابق ہے کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ ہم نے نہیں جیتی تھی اور نہ ہی ہم اسے ہارے تھے ۔ ۱۶ ستمبر تک پاکستان اور بھارت دونوں یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ ان میں سے کوئی بھی اس جنگ کو نہیں جیت سکتا۔ اسی لئے دونوں کی یہ کوشش تھی کہ کوئی اس جنگ کو بند کر وا دے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جنگ بچوں کا کھیل نہیں۔ جنگ لڑنے کے لئے امن کے زمانے میں بہت زیادہ تیاری کرنا پڑتی ہے۔ تیزی سے ختم ہوتے ہوئے گولہ بارود کے ذخائر اور فوجی ساز و سامان کی توڑ پھوڑنے دونوں ممالک کے جرنیلوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ بہتر یہی ہوگا کہ جنگ جلد از جلد بند کر دی جائے ۔ اسی لئے جب سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لئے کہا تو دونوں ممالک نے اسے تسلیم کر لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader