ایک سفر
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
بدقسمتی سے سیاست دانوں کو اپنے عوام کو ساتھ رکھنے کے لئے قدم قدم پر جھوٹ بولنا پڑتا ہے اسی پاکستان کے حکمرانوں نے یہ اعلان کیا کہ انھوں نے بھارت کی کئی گنا افواج کو شکست دے دی ہے اس طرح پاکستان کے عوام نے یہ یقین کر لیا کہ انھوں نے یہ جنگ جیت لی ہے۔ شاعروں ادیبوں اور گانے والوں نے پاک افواج کے بہت گن گائے۔ سیاست دانوں نے نہ صرف عام لوگوں کو گمراہ کیا تھا بلکہ فوج بھی یہ سمجھنے لگی کہ اس نے بھارتی فوج کو شکست دے دی ہے۔ فوجی تقریبات میں گانے والوں کو بلایا گیا جنھوں نے ”میرا ماہی چھیل چھبیلا“ ”کرنیل نی جرنیل نی“ جیسے گانے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فوجی خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے۔ یہ صورت حال حساس فوجی افسروں کے لئے بہت تکلیف دہ تھی۔ اس جنگ کے چند ہفتوں بعد جب جنرل موسیٰ خاں سیالکوٹ تشریف لائے اور انھوں نے وہاں دوڈویژنوں کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے اس جنگ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تو میں نے ان سے سب کے سامنے جب دوران جنگ ہونے والی چند غلطیوں کا ذکر کیا تو ہر طرف سے شور اٹھا کہ بیٹھ جاؤ۔ میری تنقید تعمیری تھی۔ میں چاہتا تھا کہ ہم جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے سوچیں تاکہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کر سکیں۔ لیکن میں ابھی اس وقت اتنا با ہوش نہیں تھا کہ یہ سمجھتا کہ انسان اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے لئے نہیں ہوتا۔ اور وہ اپنی غلط بات پر اصرار کرتا رہتا ہے ۔ کراچی کی سڑکوں سے گزرنے ہوئے جگہ جگہ "یوم شہدا" کا بورڈ نظر آیا۔ آج ۳۰ ستمبر کے اخبارات (مثلاً حریت ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹) کے صفحہ اول پر اس قسم کی سرخیاں تھیں: آج پورے سندھ میں یوم شہد احیدر آباد منایا جا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ آج ہی کے اخبار نوائے وقت ۳۰ ستمبر ۱۹۸۹) میں صفحہ اول پر جلی سرخی تھی کہ " اتر پردیش اور مقبوضہ کشمیر میں ۲۴ مسلمان شہید کر دئے گئے۔ مسلمان ہندوستان میں بھی "شہید" ہو رہے ہیں اور پاکستان میں بھی۔ کراچی کے اخبار حریت (۳۰ ستمبر ۱۹۸۹) اور اسی تاریخ کے وفاق اور نوائے وقت میں جو خبریں پڑھیں، ان کا خلاصہ یہ تھا کہ " ۳۰ ستمبر کو مہاجر قومی موومنٹ کے زیراہتمام پورے سندھ میں یوم شہداء حیدر آباد منایا گیا ۔ پچھلے سال ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ کو یہ واقعہ ہوا تھا کہ مسلح دہشت گرد (پٹھانوں) نے کلاشینکوف اور دیگر جدید خود کار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader