Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 439

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ اللہ کا شکر ہے کہ اس قسم کے سیکڑوں عرب نوجوان مختلف عرب ملکوں میں پیدا ہو چکے ہیں جو الرسالہ مشن سے شیفتگی کی حد تک تعلق رکھتے ہیں۔ الرسالہ مشن اردو میں جاری ہوا۔ اس کا لٹریچر زیادہ تر اردو زبان میں ہے۔ یہ عرب نوجوان اردو سے مکمل طور پر نا واقف ہیں، اس کے باوجود انھوں نے الرسالہ مشن کو جتنا زیادہ سمجھا ہے اور جتنا اس کو پایا ہے، اس کی مثال اردو داں لوگوں میں بھی مشکل سے ملے گی ۔ ان عرب نوجوانوں میں ایک قابلِ لحاظ تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس کے لئے وقف کردی ہیں۔ اور مختلف ملکوں میں خاموشی کے ساتھ اس مشن کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ اس قسم کا ایک بڑا حلقہ قاہرہ میں ہے۔ وہ لوگ الرسالہ کے منتخب مضامین کا عربی میں ترجمہ کرواتے ہیں اور اس کو پمفلٹ کی صورت میں چھاپ کر عربوں کے درمیان پھیلا رہے ہیں۔ انگلینڈ میں مقیم عرب نو جو ان یہی کام انگریزی کتابچوں کی صورت میں کر رہے ہیں۔ اسی طرح اور کئی ملک میں یہ کام خالص مثبت انداز میں جاری ہے۔ العارف عبد السلام احمد (۳۳ سال)، ایک عرب نوجوان ہیں۔ ان کی تعلیم برطانیہ (Red Car, Middlesborough) میں ہوئی انھوں نے بتایا کہ ۲ اگست ۱۹۹۲ کو وہ لیسٹولیں تھے ۔ وہاں مشہور مصر ی عالم ڈاکٹر محمد صلاح الصاوی ایک مؤتمر میں اپنا مقالہ پیش کرنے کے لئے آئے تھے ۔ وہاں ایک پاکستانی نو جوان ان سے بحث کرنے لگا کہ اسلام کی حاکمیت قائم کرنا امت پر فرض ہے اور یہی امت مسلمہ کا نصب العین ہے۔ ڈاکٹر ر صاوی نے کہا : الحاكمية ليست بآية ولا حديث ولكنها اجتهاد بشر عرضة للخطأ (حاکمیت کا لفظ نہ آیت ہے اور نہ حدیث ۔ بلکہ وہ ایک انسان کا اجتہاد ہے جو غلطی کا شکار ہو سکتا ہے ) وگرنہ میں مجھے ڈاکٹر محمد صلاح الصاوی کی کتاب قضية تطبيق الشريعة في العالم الاسلامی ملی۔ اس کے باب را بع کا عنوان ہے: اجماع الامة على كفر من أبى التحاكم الى الكتاب والسنة۔ اس باب میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا ایک اقتباس ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : بل أن العلمانى الذي يرفض مبدأ تحكيم الشريعة من الاساس ليس له من الاسلام الا اسمه - وهو مرتد عن الاسلام بيقين يجب ان ليستاب وتنزاح عنه

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page