ایک سفر
Urdu book, p. 440
By Maulana Wahiduddin Khan
الشبهة وتقام عليه الحجة - والاحكام القضاء عليه بالردة وجرد من انتماءة الى الاسلام او سحبت منه الجنسية الاسلامية - وفرق بينه وبين زوجه وولده - وجرت عليه احكام المرتدين المارقين في الحياة وبعد الوفاة (صفحه ۴۶) علماني (سيكولر) کا مذکورہ حکم اس وقت ہے جب کہ علمانیت (سیکولرزم) کو ایک اعتقادی چیز مانا جائے۔ مگر سیکولرزم اصلًا ایک عملی تدبیر ہے۔ سیکولرزم کا عمومی مطلب یہ ہے کہ کثیر مذہبی سماج میں ریاست اس بات کی پابندی قبول کرلے کہ وہ مذہبی امور میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرے گی۔ گویا سیکولرزم صرف ایک سیاسی مسلک ہے نہ کہ کوئی مذہبی عقیدہ۔ 19 ستمبر کو ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں جس مکان میں ٹھہرا تھا، اس کے پیچھے ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ کسی نے اس کا شیشہ توڑ دیا ہے۔ میں نے جاکر دیکھا تو ڈرائیور کی سیٹ کے پاس والا کھڑکی کا شیشہ مکمل طور پر ٹوٹ گیا تھا اور اس کے ٹکڑے زمین پر پڑے ہوئے تھے۔ میں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں بے روزگار لڑکے اکثر اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ یہ لڑکے عام طور پر شراب اور ڈرگ کے عادی ہوجاتے ہیں۔ جب ان کے پاس اپنی بری عادتوں کو پورا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے تو وہ چوری کرتے ہیں۔ مذکورہ گاڑی کا شیشہ کسی لڑکے نے اس لئے توڑا تھا کہ وہ اس کے اندر لگے ہوئے ٹیپ ریکارڈر کو نکال لے اور پھر اس کو بیچ کر کچھ رقم حاصل کرے ۔ جدید مغربی زندگی میں جہاں بہت سی مادی اور اخلاقی خوبیاں ہیں، ان میں بعض ایسی برائیاں پائی جاتی ہیں جن کا مشاہدہ مشرقی ملکوں میں نہیں ہوتا۔ یہاں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے میں نے دیکھا کہ جگہ جگہ مکانوں کے سامنے برائے فروخت (for sale) کال بورڈ لگا ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس وقت برطانیہ میں اقتصادی گراوٹ (recession) کا دور ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اپنے مکانوں کی قسط بینکوں کو ادا کرنے میں اپنے کو عاجز پا رہے ہیں۔ اس لئے انھوں نے اپنے مکانوں کو اپنے بینکوں کے حوالے کر دیا ہے تاکہ وہ کسی اور گاہک کو تلاش کر کے مکان ان کے حوالے کر سکیں۔ واضح ہوکہ یہاں مکانات عام طور پر بینکوں کے قرض کی بنیاد پر خریدے جاتے ہیں۔ ایک انگریز سے گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader