Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 448

By Maulana Wahiduddin Khan

ترهبون به عدو الله وعدوكم (الانفال ٦٠) اس آیت میں ترهبون کا لفظ بیحد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوت کے اندر ارہاب کی صفت ہونی چاہئے۔ گویا قوت وہ ہے جو قوت مرہبہ ہو۔ میں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام میں بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ کیا اہل عالم اس سے خوف زدہ ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بعض نادان لوگ یورپ یا امریکہ کے کسی اخبار میں مسلم فنڈمٹلزم یا صحوة اسلامیہ کے خلاف کوئی مضمون پڑھ کر کہتے ہیں کہ دیکھو، مغرب ہماری ان سرگرمیوں سے خوف زدہ ہے۔ میں نے ایک امریکی سے ایک بار اس بارہ میں گفتگو کی۔ اس نے کہا کہ یہ لوگ کم سے کم کوئی ازعاج (nuisance) تو پیدا کر ہی سکتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہم کو کیا درجہ دے رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ ہمیں موجودہ دور کو سمجھنا چاہئے۔ اس دور میں جو چیز قوت مرہبہ کی حیثیت رکھتی ہے وہ صرف علم ہے۔ خاص طور پر سائنسی علم۔ اس لئے اس آیت کے مطابق، مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ وقت کی قوت مرہبہ (علم) حاصل کر لیں۔ اس کے بغیر موجودہ دنیا میں ہم کو با وزن حیثیت نہیں مل سکتی۔ ستمبر ١٩٩٢ کی ٢٣ تاریخ ہے۔ میں وگن میں اپنی قیام گاہ کے اوپر کے کمرہ میں بیٹھا ہوں۔ یہ مکان ایک شاہراہ کے کنارے واقع ہے۔ سڑک پر دونوں طرف گاڑیوں کا لامتناہی سیلاب بہہ رہا ہے سامنے تکونی چھتوں (۸) کے مکانات کی قطاریں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف پارک ہے جس میں دور تک درختوں کا منظر پھیلا ہوا ہے۔ اپنی کھڑکی سے ان مناظر کو دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کہ یہی وہ قوم ہے جو کبھی برطانیہ عظمی کہی جاتی تھی۔ اس نے دنیا کے اتنے بڑے حصہ میں اپنا اقتدار قائم کر لیا تھا کہ کہا جانے لگا کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ میں سوچنے لگا کہ آخر اس قوم کی وہ کون سی صفت تھی جس نے اس کو اتنے وسیع رقبہ میں اتنی بڑی سلطنت قائم کرنے کے قابل بنایا۔ اتنے میں سڑک پر ایک معمر خاتون ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے جسم پر سبز رنگ کا کپڑا ہے۔ اپنے ہاتھ میں وہ لاٹھی جیسی ایک لمبی لکڑی لئے ہوئے ہے۔ اس لکڑی کے سرے پر ایک گول تختہ جڑا ہے۔ اس تختہ پر جلی حرفوں میں نیچے اوپر لکھا ہوا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page