ایک سفر
Urdu book, p. 449
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ معمر خاتون اس نشان کو لے کر سڑک کے درمیان کھڑی ہو جاتی ہے۔ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے اسکول کے بچے جو سب کے سب سفید فام ہیں، تیزی سے سڑک کو پار کرتے ہیں۔ خاتون اپنا یہ کام سڑک کی دونوں سائیڈ میں کرتی ہے اور پھر تیزی سے اپنی لکڑی کا رخ الٹ کر کے دوبارہ سڑک کے کنارے کھڑی ہو جاتی ہے تاکہ مزید آنے والے بچوں کی مدد کر سکے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں سڑکوں پر جگہ جگہ یہ انتظام کیا گیا ہے۔ کم آمدنی والی معمر خواتین معمولی معاوضہ پر یہ کام کرتی ہیں۔ ان کے جسم کا سنہری مائل کپڑا ان کی اس حیثیت کی علامت ہوتا ہے۔ صبح کے وقت جب بچے اسکول جاتے ہیں اور دو پہر بعد جب وہ لوٹتے ہیں، دونوں وقت یہ خواتین سڑک پر آ کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ان کے نشان کو دیکھ کر تمام سواریاں فوراً رک جاتی ہیں۔ ایسی خاتون کو اسکول کراسنگ گارڈ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ خاتون کو اپنے کام کی ادائیگی میں بیک وقت دو پہلوؤں کا لحاظ کرنا تھا۔ ایک طرف گاڑیوں کا اور دوسری طرف بچوں کا۔ بوڑھی خاتون نے اس کام کو اتنی پھرتی، اتنی باقاعدگی اور اتنے منظم انداز میں کیا کہ میں اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میں نے سوچا کہ انگریزوں کی عالمی کامیابی کا راز یہ تھا کہ انھوں نے اپنی پوری قوم، حتیٰ کہ عام مردوں اور عورتوں تک کے اندر ڈسپلن کی صلاحیت کمال درجہ میں پیدا کر دی۔ دوسری عالمی جنگ (۴۵-۱۹۳۹) کے دوران سرونسٹن چرچل برطانیہ کے وزیراعظم تھے۔ وہ عام طور پر شدت پسند لیڈر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ مگر ان کی زندگی میں بہت سی قابل قدر مثالیں ملتی ہیں۔ ایک بوڑھے برطانی شخص نے مجھے بتایا کہ چرچل نے دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں برطانی قوم کو جو ماٹو دیا وہ تھا ۔۔۔۔۔ سب کچھ میرے اوپر منحصر ہے : It all depends on me. یہ بلاشبہ ایک بہترین ماٹو ہے۔ یہ جنگ اور امن دونوں حالتوں کے لئے یکساں طور پر مفید ہے۔ میرے بھائی عبد المحیط خاں انجینئر نے بتایا کہ ایک بار وہ چندی گڑھ کے ایک ٹریننگ کیمپ میں شریک ہوئے۔ یہ کیمپ پالی ٹیکنیک کے پرنسپلوں کی ٹریننگ کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ اور ایک انگریز پروفیسر کو اس میں لیکچر دینے کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس کا افتتاح ایک ہندوستانی منسٹر کو کرنا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader