ایک سفر
Urdu book, p. 451
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کی ہزاروں مختلف باتیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہاں کی حکومت عدل اور انسانیت کی حکومت ہے۔ مگر شاید ہی کوئی مسلمان اس کا اعتراف کرتا ہوا ملے گا۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ نہ رشدی کو سزا کیوں نہیں دیتا۔ وہ بوسنیا کے معاملہ میں مداخلت کیوں نہیں کرتا۔ وغیرہ۔ بعض ذاتی شکایت کی بنا پر وہ نظام کی خوبیوں کا انکار کر رہے ہیں۔ یہ ابولولو فیروز کی سنت ہے نہ کہ صحابہ کی سنت۔ صحابہ جب ہجرت کر کے حبش گئے تو انھوں نے وہاں کے مسیحی بادشاہ کے عدل کا اعتراف کیا اور اس کے لئے دعائیں کیں۔ جب کہ ابولولو مجوسی کا یہ حال ہوا کہ وہ عمر فاروق کے بے مثال عادلانہ نظام کو دیکھنے کے لئے اندھا ہو گیا۔ اس کو صرف اپنی ذاتی شکایت نظر آئی، اور وہ بھی اتنی مبالغہ آمیز انداز میں کہ اس نے عمر فاروق جیسے عادل حکمران کو قتل کر دیا۔ ایک عرب نوجوان نے بت یا کہ جون ۱۹۹۲ میں وہ مانچسٹر میں تھے۔ اس وقت مانچسٹر کی جامع مسجد میں نو مسلم انگریز یوسف اسلام کی تقریر ہوئی ۔ وہ بوسنیا کا دورہ کر کے ابھی واپس آئے تھے۔ انھوں نے اپنی انگیز یسی تقریر میں جو کچھ کہا اس کا خلاصہ عرب نوجوان کے الفاظ میں یہ تھا : إنَّ الشئ الَّذى جعل المسلمين مستضعفين هو ذهاب الخلافة۔ فان كانت الخلافة قائمة لما استطاع احد ان يفعل بهم هذا - لان الخلافة الاسلامية ستكون لها ايدى تمتد لتحمى المسلمين فى كل مكان - فلا بد من اقامة الخلافة فهى الحل لكل ما حل بالمسلمين من ضعف وهوان ۔ والا ستكون النتيجة هي اليوم بوزنيا و غدًا بريطانيا میں نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ ذہاب خلافت نہیں بلکہ ذہاب عصر ہے۔ ترکوں نے خلافت کو "تلوار" کے زور پر قائم کیا تھا۔ جب تک تلوار کا دور رہا، خلافت بھی باقی رہی۔ جب تلوار کا دور ختم ہو گیا تو ترکوں کی خلافت بھی ختم ہو گئی۔ اب علم کی طاقت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے بے زور ہو جانے کا سبب یہ ہے کہ ان کے پاس وقت کا زور (علم) موجود نہیں۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ علم کی طاقت حاصل کرنے کا ہے نہ کہ بے فائدہ طور پر مفروضہ دشمنوں کے خلاف ایسی جنگ چھیڑنے کا جس کا نتیجہ خود اپنی مزید بربادی کے سوا کسی اور شکل میں نکلنے والا نہیں۔ یوسف اسلام نے جو بات کہی وہ ان کی اپنی بات نہیں۔ یہ دراصل ان مسلمانوں کی بات ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader