ایک سفر
Urdu book, p. 450
By Maulana Wahiduddin Khan
منسٹر صاحب جب مائیک پر آئے تو اچانک بجلی چلی گئی اور لاؤڈ اسپیکر نے کام کرنا بند کر دیا۔ جلسہ گاہ میں متبادل انتظام کے طور پر بیٹری رکھی نہیں گئی تھی۔ البتہ کالج کے قریبی ورک شاپ میں بیٹری موجود تھی۔ جب یہ حادثہ ہوا تو زیرِ تبصرہ پرنسپل صاحبان کالج کے کسی چپراسی یا کسی ورکر کو تلاش کرنے لگے تاکہ اس کو بھیج کر ورکشاپ سے بیٹری منگو سکیں لیکن انگریزیہ پرو فیسر کو جیسے ہی صورتحال کا علم ہوا وہ خود بھاگ کر ورکشاپ پہنچا۔ بھاری بیٹری کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر وہ دوڑتا ہوا آیا۔ اور لاؤڈ اسپیکر کے نظام سے جوڑ کر اس کو چند منٹ میں چلا دیا۔ کسی قوم کے افراد کا یہی مزاج اس قوم کی اجتماعی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ افراد کے اندر یہ اسپرٹ جتنی زیادہ پائی جائے گی، اتنی ہی زیادہ وہ قوم ترقی کرے گی۔ میری قیام گاہ کے قریب ایک اسکول (Hawkley Hall High School) تھا۔ میں روزانہ صبح اور شام یہاں ٹہلنے جایا کرتا تھا۔ ۲۳ ستمبر کو موسم بہت خوشگوار تھا۔ میں ایک عرب نوجوان کے ساتھ اسکول کے سامنے کھلی جگہ پر ٹہل رہا تھا۔ اچانک پولیس کی کار آکر وہاں کھڑی ہوئی ۔ اس میں سے پولیس کا ایک آدمی نکلا۔ وہ تیزی سے ہمارے پاس آیا اور انگلش لہجہ میں کہا: براہ کرم معاف کیجئے، اسکول کے لوگوں نے یہ شکایت کی ہے کہ دو داڑھی والے آدمی یہاں روزانہ آتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ لوگوں کا مقصد کیا ہے۔ میرے ساتھی نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں۔ ان کو ٹہلنے کی عادت ہے۔ چنانچہ ہم لوگ یہاں ٹہلنے کے لئے آجاتے ہیں۔ اس نے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں رہتے ہیں۔ بتایا گیا کہ اسی ایریا کے مکان نمبر ۵۹ میں۔ اس کے بعد اس نے مسکراتے ہوئے کہا: Oh, it is alright. I am sorry. ہم سے بات کرنے کے بعد وہ اسکول کی عمارت میں داخل ہوا۔ وہاں اسکول کے ذمہ داروں سے بات کی۔ چند منٹ کے بعد وہ باہر نکلا اور اپنی کار میں بیٹھ کر واپس جانے لگا تو اتفاق سے اس کی کار ہمارے پاس سے گزری۔ شیشہ کے اندر سے اس نے ہماری طرف دیکھا اور ہاتھ ہلا کر دوبارہ اپنے اطمینان اور معذرت کا اظہار کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader