ایک سفر
Urdu book, p. 453
By Maulana Wahiduddin Khan
بتایا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ سن کر والد نے کہا کہ میں جانتا تھا کہ تم ضرور ایسا کرو گے۔ I knew you would do. میں نے اس واقعہ کو سنا تو میں نے کہا کہ بیٹے کے حق میں انگریز باپ کا یہ جملہ علامتی طور پر پوری انسانیت کے حق میں ایک پیشگی بیان ہے۔ گویا کہ مغرب کی پچھلی نسل اپنی اگلی نسل سے کہہ رہی ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ ایک روز آئے گا جب کہ تم لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو جاؤ گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت کو اگر اس کے واقعی تقاضوں کے ساتھ انجام دیا جائے تو تمام باپوں کو اپنے بیٹوں سے وہی کہنا پڑے گا جو مذکورہ برطانی باپ نے اپنے بیٹے سے کہا تھا۔ لندن میں راجر ڈیوڈ اسٹون (Roger David Stone) سے ملاقات ہوئی۔ ان کا موضوع فلسفہ ہے۔ وہ کالج میں استاد تھے۔ اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے مذاہب کے مطالعہ سے دلچسپی ہوئی۔ اس سلسلہ میں میں نے اسلام کو سمجھنے کے لئے بعض صوفیا سے ملاقات کی۔ انھوں نے مجھ کو بتایا کہ اللہ ازلی ہے، محمد ازلی ہے، قرآن ازلی ہے۔ اس کے بعد میرا خیال یہ ہو گیا کہ اسلام بھی ایک قسم کی تثلیث (Trinity) ہے ، جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ مسلمانوں میں مجھے کسی ایسے سلسلہ صوفیاء کا علم نہیں۔ مجھے شبہ ہے کہ عیسائیوں میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اسلام کو ایک قسم کے تثلیثی مذہب کے روپ میں پیش کرنے لگے۔ مسٹر راجر ڈیوڈ اسٹون مذکورہ صوفیاء کا پتہ نہ بتا سکے۔ اس لئے لیکن نہیں کہ میں ان سے ربط قائم کر سکوں۔ ایک مسلمان سے میں نے ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ مسیحیوں کی سازش ہے۔ وہ اسلام اور مسیحیت کو ایک ثابت کرنے کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ خواہ وہ سازش ہو یا غیر شعوری طور پر ہو، دونوں حالتوں میں اس کا حل یہ ہے کہ اسلام پر صحیح لٹریچر زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے ۔ اسلام کو اتنا زیادہ معروف بنا دیا جائے کہ کوئی اس کی تصویر بگاڑنا چاہے تب بھی وہ اس کی تصویر بگاڑنے پر تلا نہ ہو۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ جس طرح ہندوستان میں صوفیاء کا طبقہ ویدانت سے متاثر ہو کر وحدت الوجود کا قائل ہو گیا۔ اسی طرح مسیحی دنیا میں کچھ لوگ مسیحی تثلیث سے متاثر ہو کر مذکورہ قسم کی باتیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader