ایک سفر
Urdu book, p. 464
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم کیوں اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور جائیں۔ اس واقعہ کو سن کریں نے کہا کہ آج ہمارے مسلم دانشوروں کا حال یہ ہے کہ وہ کہانی کے حصے اول کو لے کر کہنے لگتے ہیں کہ مغربی لوگ اسلام دشمن ہیں۔ وہ اسلام کے فروغ کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حالانکہ عین اسی وقت کہانی کا نصف ثانی ان کے لئے زبردست مثبت سبق کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ آئی پی سی میں جناب عبدالمجید صوفی (بریڈفورڈ) سے ملاقات ہوئی۔ وہ قدیم کتابیں جمع کرنے کے شوقین ہیں۔ انھوں نے ایک کتاب دکھائی: Thomas Carlyle, lectures on Heroes, Chapman and Hall, London 1888 اس کتاب کا ایک لیکچر ہیرو پیغمبر (The Hero As Prophet) ہے۔ یہ لیکچر لندن میں ۱۸۴۰ کو دیا گیا تھا۔ اس میں پیغمبر اسلام کو تمام پیغمبروں کا ”ہیرو“ بتایا گیا ہے۔ عبد المجید صوفی کے پاس اس کتاب کا ۱۸۸۸ کا نسخہ ہے۔ انھوں نے یہ کتاب مجھے دکھاتے ہوئے کہا کہ ”یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ ساری دنیا ان کے قدموں میں تھی ، جب یہ لوگ انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے تھے۔ اس وقت کارلائل نے رسول اللہ کو پیغمبروں کا ہیرو بتایا۔ میں نے کہا کہ ”۱۸۴۰ء میں اتنا بڑا واقعہ لندن میں ہوا۔ مگر اس وقت کے مسلم لیڈروں میں سے کوئی نہیں جو اس کو جانے اور اس سے مسلمانوں کو آگاہ کرے ۔ ہمارے رہنما انگریز کے نام سے صرف ” ڈائر “ سے واقف تھے، وہ انگریز کے نام سے ”کارلائل“ سے واقف نہ ہو سکے۔ برمنگھم کے الہجرہ اسکول کے ہال میں ۴ ستمبر کو ایک تقریر تھی۔ اس میں تعلیم یافتہ حضرات جمع ہوئے۔ تقریر کا موضوع تھا : اسلام اور عصر حاضر ۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر میں موضوع کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا گیا۔ آخر میں سوال و جواب ہوا۔ اس کے علاوہ مختلف مواقع پر مجلسیں ہوئیں ان میں الرسالہ مشن اور دوسرے ملی موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ اس طرح ۴ ستمبر کا تقریباً پورا دن لوگوں سے بات چیت میں گزر گیا۔ ایک اجتماع میں قاری صاحب نے قرآن کی وہ آیتیں تلاوت کیں جن میں لا ترفعوا اصواتکم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader