ایک سفر
Urdu book, p. 463
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے غور کیا تو ذہن میں آیا کہ شاید یہی وہ چیز ہے جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ : رب المشارق والمغارب ( المعارج (۴۰) قدیم زمانہ کا انسان صرف مقامی دائرہ میں سوچتا تھا۔ اس کو اس بات کی کوئی خبر نہ تھی کہ جس وقت وہ اپنے افق پر سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے اس وقت دوسرے مقامات پر دوسری آفتابی حالت ہوگی۔ یا جس وقت وہ اپنے افق پر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے اس وقت دوسرے مقامات پر اس کے علاوہ دوسرا آفتابی منظر ہوگا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قرآن کی یہ آیت قرآن کے کتاب الہی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ چودہ سو سال پہلے جب کہ انسان تعدد مشارق اور تعدد مغارب کی حقیقت سے بے خبر تھا، یہ صرف کسی بر تر ہستی ہی کے لئے ممکن تھا کہ وہ اس کائناتی حقیقت کو جاننے اور اس کے بارے میں نہایت صحیح بیان دے سکے۔ جناب شمشاد صاحب نے بتایا کہ برنگھم سے کچھ فاصلہ پر نوریٹن (Nureaton) میں تقریباً ۱۵ سال پہلے گجراتیوں نے ایک مسجد بنائی۔ سب سے پہلا کام مسجد کی تعمیر کی اجازت لینا تھا۔ مقامی انگریزوں نے سخت اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں مسجد تعمیر ہوئی تو یہ لوگ شور وغل کریں گے۔ گندگی پھیلائیں گے اس کے بعد ہمیں اپنے گھروں کو چھوڑ دینا پڑے گا۔ تا ہم ان کے اختلاف کے باوجود شہری کونسل (کارپوریشن) نے اس کی اجازت دے دی۔ اب یہاں کے مسلمان چندہ جمع کرنے کے لئے نکلے۔ لندن میں ان کی ملاقات ایک سعودی شیخ سے ہوئی۔ اس نے پوچھا کہ مسجد کی تعمیر کے لئے کتنے خرچ کا اندازہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ملین پونڈ۔ شیخ نے تنہا اپنی جیب سے ایک ملین پونڈ دے دیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک خوبصورت مسجد تعمیر کی۔ انگریزوں کے اندیشے کے برعکس مسجد اس علاقہ میں خوبصورت تعمیر اور سکون اور صفائی کے ماحول کی مثال بن گئی۔ مسلمانوں کا خیال تھا کہ انگریز اپنے کہنے کے مطابق، مسجد کی تعمیر کے بعد اس علاقہ سے جانا شروع کر دیں گے اور ہم ان کے مکانوں کو خرید کہ یہاں مسجد کے پاس آباد ہو جائیں گے۔ مگر کئی سال گزر گئے اور کوئی انگریز وہاں سے نہیں گیا۔ اس کے بعد ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس مسجد کے بننے کے بعد تو ہم اپنے آپ کو زیادہ سیکور محسوس کرنے لگے ہیں۔ مسجد کے لوگ نہایت ڈسپلن کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہاں اچھے لوگوں کی آمد و رفت بڑھ گئی ہے اور ہر گلیری کا خطرہ ختم ہو گیا ہے جس کا اندیشہ ہم کو پہلے لگا رہتا تھا۔ پھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader