ایک سفر
Urdu book, p. 468
By Maulana Wahiduddin Khan
ہرسٹ) پر کیا تھا۔ یہاں تعلیم یافتہ مرد اور عورت جمع تھے۔ اس موقع پر میری دو تقریریں ہوئیں۔ پہلی تقریر اقوال رسول کی روشنی میں۔ اور دوسری تقریر رسول اور اصحاب رسول کے واقعات کی روشنی میں۔ پہلی تقریر برعشا کی نماز سے پہلے ہوئی اور دوسری تقریر برعشا کی نماز کے بعد۔ مسراسرہ خان نے الرسالہ کے بارہ میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ہر مضمون آدمی کے اندر اسلامی فیلنگ کو جگاتا ہے۔ جب ہم اس کا کوئی صفحہ پڑھتے ہیں تو عین اس وقت ہمارا تعلق خدا اور رسول سے جڑ جاتا ہے۔ الرسالہ وقت کے اسلوب میں اسلامی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ ان کے شوہر اردو نہیں جانتے۔ وہ صرف انگریزی سمجھ سکتے ہیں۔ وہ اپنے شوہر کو الرسالہ کی باتیں انگریزی زبان میں بتاتی ہیں۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۹۲ء کو جب میں لندن میں تھا۔ مسٹر فاروق جنگ کے یہاں ٹیلیفون آیا۔ آجکل وہ اپنی فیملی کے ساتھ۔ لون میں مقیم ہیں۔ انھوں نے جرمنی آنے کی دعوت دی۔ مگر لندن سے بون جانا میرے لئے مشکل تھا۔ اس لئے میں ان کی دعوت کو قبول نہ کرسکا۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ آپ برو سیلز تک پہنچ چکے ہیں۔ ورنہ ہم برو سیلز اگر آپ کو کار سے بون لے جاتے۔ کیوں کہ برو سیلز سے بون تک بذریعہ کار صرف دو گھنٹہ کا سفر ہے۔ اتفاق سے مجھے اس کا اندازہ نہ تھا۔ ورنہ میں پہلے سے اس کا پروگرام بناتا اور برو سیلز سے بون ضرور جاتا۔ بون (Bonn) جرمنی کی انتہائی قدیم بستی ہے جس کی تاریخ پہلی صدی قبل مسیح تک جاتی ہے۔ تاہم ماضی میں اسے زیادہ ترقی نہ مل سکی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس کی ترقی شروع ہوئی اب وہ جرمنی کا سب سے زیادہ خوبصورت شہر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی خوبصورتی کا بڑا سبب یہ ہے کہ دریائے رینے (Rhine) کے کنارے واقع اس شہر کو ارباب دولت نے اپنی رہائش کے لئے پسند کیا۔ دو سو سے زیادہ دولت مند (millionaires) یہاں آکر آباد ہو گئے۔ تعلیم یافتہ اور خوشحال طبقہ جہاں آباد ہو وہ خوبصورت بستی ہوگی اور جاہل اور غریب طبقہ جہاں آباد ہو وہ بد ہیئت بستی۔ بون سے بہت سی تاریخیں وابستہ ہیں۔ مثلاً مسیحیت کے دو مذ ہبی ادارے اینگلیکن چرچ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader