Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 469

By Maulana Wahiduddin Khan

اور اولڈ چرچ کے درمیان زبردست اختلافات تھے جو تقریباً دو سال تک شدت کے ساتھ جاری رہے۔ آخر کار دونوں کے درمیان گفت و شنید سے ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدہ کا اعلان بنن میں کیا گیا۔ اس لئے اس کو بنن اعلان (Declaration of Bonn) کہا جاتا ہے۔ یہ اعلان ۱۹۳۱ میں کیا گیا۔ اس کے تحت دونوں نے ایک دوسرے کی آزاد حیثیت کو تسلیم کر لیا۔ جب اختلافات نظری اور اعتقادی سطح پر ختم نہ ہو رہے ہوں تو بہترین دانش مندی یہ ہے کہ نظری سطح پر اختلاف کو باقی رکھتے ہوئے عملی سطح پر اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ جرمنی میں ٹرانزٹ مسنجر کی حیثیت سے کئی بار جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ مگر کچھ دن قیام کر کے جرمنی کو باقاعدہ طور پر دیکھنے کی نوبت نہیں آئی۔ اس دوران مطالعہ کے ذریعہ جو باتیں علم میں آئیں ان میں سے ایک قصہ یہ تھا۔ چند دن پہلے ۲۱ ستمبر ۱۹۹۲ کو ایک واقعہ فرینکفرٹ ائیر پورٹ پر ہوا۔ اس واقعہ کو میں نے اخبار میں پڑھا۔ ایک ہندوستانی خاتون منتر مان سنگھ نے ایک جرمن مسٹر سونال (Mr Sonal) سے شادی کی ہے۔ وہ میونخ سے فرینکفرٹ پہنچیں۔ یہاں سے ان کو دہلی کی فلائٹ لینا تھا۔ ائیر پورٹ پر انتظار کے دوران وہ ایک بک شاپ (Julius Valtermahm) میں داخل ہوئیں۔ یہاں وہ ایک میگزین اٹھا کر دیکھنے لگیں۔ "سیلس وومن" جس کا نام ارسلا (Ursula) تھا، اس نے دیوار پر لگے ہوئے ایک کاغذ کی طرف اشارہ کیا۔ اس پر لکھا تھا : پہلے خرید و، پھر پڑھو (Buy now, Read later) بک شاپ میں کئی سفید فام عورتیں میگزین اٹھا کر باقاعدہ طور پر پڑھ رہی تھیں۔ مسنر مان سنگھ نے کہا کہ یہ عورتیں بھی تو پڑھ رہی ہیں۔ آپ ان کو کیوں نہیں منع کرتیں۔ اس پر دوکان کی خاتون بگڑ گئیں۔ اس نے کہا کہ یہاں سے نکل جا، کالی عورت۔ یہ میری دکان ہے۔ میں جو چاہوں گی کروں گی : Get out, you Black-head. This is my shop. I will do what I like. مسنر مان سنگھ اس کے بعد ائیر پورٹ کے مختلف دفتروں میں گئیں تا کہ اپنی شکایت درج کرائیں ۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page