ایک سفر
Urdu book, p. 474
By Maulana Wahiduddin Khan
سے مجھے دلچسپی ہے۔ ایک بار میں نے انڈیا کی سیاحت بھی کی ہے۔ مگر میرا احساس یہ ہے کہ عقلی نقطہ نظر اور علمی طرزِ فکر کے معاملہ میں ہندوستانی ذہن یوروپی ذہن سے بہت پیچھے ہے : The Indian mind is far less rational and scientific than the European. مذکورہ انگیز کی اس بات کو میں رد نہ کر سکا۔ کیوں کہ میرا اپنا خیال بھی ہندوستانی ذہن کے بارہ میں یہی ہے۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ پورے برصغیر ہند کی اصل کمی یہی ہے۔ انڈیا کے لیڈروں نے اصل مسئلہ سیاسی آزادی کو سمجھا۔ پاکستانی لیڈروں نے مسلم پاکٹ بنانے کو اصل مسئلہ قرار دیا۔ بنگلہ دیش کے لیڈروں نے یہ سمجھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بنگلہ نہ زبان اور رینگل تہذیب کو ایک آزاد علاقہ حاصل ہو جائے۔ مگر میرے نزدیک یہ سب کی سب سطحی سوچ تھی۔ یہ سب قیادت سازی کے نظریے ہیں، وہ قوم سازی کے نظریے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان خیالات کی بنیاد پر اٹھنے والی تحریکوں نے کچھ لیڈروں کے گنبد تو ضرور کھڑے کر دئے ۔ مگر یہ تحریکیں قوم کا مستقبل تعمیر کرنے میں سراسر ناکام رہیں۔ لندن کی ایک مجلس میں بوسنیا میں ہونے والے مظالم کا ذکر ہوا۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب نے پرجوش طور پر کہا کہ عراق نے کویت کے خلاف ظلم کیا تو امریکی حکومت فی الفور پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آگئی۔ بوسنیا میں سرب اور یوگوسلاوی حکومت نے وہاں کے مسلمانوں کے خلاف ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ مگر امریکہ کی حکومت نے اس کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بش انتظامیہ کے نزدیک صرف ان مسلمانوں کی اہمیت ہے جن کے پاس تیل ہو : It would appear that only Muslims with oil count for the Bush administration. میں نے کہا کہ اس معاملے میں خود مسلمان ایں گناہ است که در شهر شما نیز کنند کا مصداق ہیں۔ صدام حسین نے کویت کے خلاف جارحیت سے پہلے ایران کے خلاف جارحیت کی اور اور اس کو ۸ سال تک جاری رکھا ، مگر ہمارے علماء اس جارحیت پر خاموش رہے۔ لیکن جب اسی صدام نے کویت (اور سعودی عرب) کے خلاف جارحیت کی تو تمام علماء چیخ اٹھے۔ کیوں کہ سعودی عرب اور کویت سے ان علماء کا مفاد وابستہ تھا۔ جب کہ ایران سے ان کا اس قسم کا مفاد وابستہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader