Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 473

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلی جلد میں نے دیکھی۔ اس میں مذہب کی بحث کے تحت لکھا گیا ہے : برمنگھم کے ایک مسلمان سے یہاں کے مسلمانوں کے بارہ میں گفت گو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں کی مسلم کمیونٹی اخلاقی اعتبار سے سب سے زیادہ بدنام کمیونٹی ہے۔ عام طور پر یہاں اس کی اچھی امیج نہیں۔ ان کو میں نے کتاب کا مذکورہ مضمون دکھایا۔ میں نے کہا کہ مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب صرف کچھ عبادات اور مذہبی رسوم کا مذہب نہیں ہے بلکہ وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے تمام شعبے شامل ہیں۔ مگر زندگی کے معاملات میں مسلمان ہی سب سے زیادہ ناقص ہیں اور جن لوگوں کو آپ محدود مذہبی تصور کا الزام دیتے ہیں وہ زندگی کے معاملات میں آپ سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اسلام کی مذکورہ تعریف جو آجکل بہت زیادہ رائج ہے وہ بذات خود درست نہیں. یہ تمام تر رد عمل کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی معاملات میں چرچ کے دخل کو ختم کرنے کے لئے کچھ لوگوں نے کہا کہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے۔ اس کے رد عمل میں مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ یہ کہنے لگا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہاں تیسری تھی۔ یعنی یہ کہ مذہب معرفت خداوندی کا نام ہے اور انسان کو جب خالق و مالک اور محاسب و مجازی خدا کی معرفت ہو جائے تو اس کے اندر ایک ذہنی انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے تمام اختیاری معاملات میں اللہ کی پسند و ناپسند کا لحاظ کرنے لگتا ہے۔ جن لوگوں نے کہا کہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، ان کی تعریف کم از کم محدود تک انسانی شخصیت کو چھوٹی تھی ۔ مگر جدید مسلم مفکرین کی تعریف میں انسانی شخصیت سرے سے گرفت سے باہر چلی گئی۔ اس نظریہ کو ماننے والوں کا سارا دھیان حکومتی ادارہ کی طرف چلا گیا ۔ کیوں کہ ان کی تعریف کے مطابق یہ صرف حکومتی ادارہ تھا جس کو قبضہ میں لے کر زندگی کے تمام شعبوں کی تشکیل اپنی مرضی کے مطابق کی جاسکتی تھی۔ ایک بوڑھے انگریز سے بات ہوئی۔ وہ انڈیا کے حالات سے واقف تھا۔ اس نے کہا کہ انڈیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page