ایک سفر
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے مارچ ۱۹۹۰ء میں ایک سفر ہوا۔ مہینہ کے آخر میں دوبارہ دہلی واپسی ہوئی۔ ، ۸ مارچ کو فجر سے پہلے گھر سے ایر پورٹ جانے کے لئے نکلا تو ایک حدیث یاد آگئی جس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جس آدمی کو اندیشہ ہوتا ہے وہ صبح سویرے سفر کے لئے نکلتا ہے۔ اور جو آدمی سویرے سفر کے لئے نکلتا ہے وہی اپنی منزل پر پہنچتا ہے (مشکاۃ المصابیح الجزء الثالث، صفحه ۱۴۷۹ ) حدیث میں ادلاج کا لفظ ہے جس کے معنی رات کے آخری حصہ میں یا صبح کے اندھیرے میں سفر کے لئے نکلنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب آغاز سفر میں جلد روانگی کا اہتمام کرنا ہے تاکہ سفر کامیابی کے ساتھ طے ہوسکے۔ یہی معاملہ آخرت کے سفر کا بھی ہے۔ آخرت کے سفر میں کامیابی کے ساتھ منزل پر پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے تقاضوں کو سمجھ کر اس کا پورا اہتمام کیا جائے۔ دہلی سے جہاز کی روانگی کا وقت صبح ساڑھے چھے بجے تھا۔ فجر سے پہلے گھر سے روانہ ہوا۔ راستہ میں لال بتی پر گاڑی رکی تو مجھے قرآن کی آیت وقفوهم انهم مسئولون (الصافات (۲۴) یاد آگئی۔ آخرت میں وہی شخص پار ہوگا جس کوروکا نہ جائے۔ جس آدمی کو جانچ کے لئے روکا گیا وہ ہلاک ہوا۔ میرے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں صاحب مرحوم نے ایک بار ایک ٹرک خریدا۔ جلد ہی بعد انھوں نے اس کو بیچ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ ٹرک کے بارہ میں حکومت نے اتنے زیادہ قانون اور قاعدے بنا ر کھے ہیں کہ اس کا پکڑے سے بچنا سخت مشکل ہے۔ پولیس والوں نے جس ٹرک کو جانچ کے لئے روکا اس کا چالان ہو نا لازمی ہے۔ آخرت میں ٹکٹ کل قسم کے ضابطوں پر تو کسی کی پکڑ ہونے والی نہیں ہے۔ البتہ عمل کے خالص پن (purity) پر ضرور وہاں جانچ ہوگی۔ جس آدمی کا عمل خالص اللہ کے لئے ہو وہ بچے گا اور جس آدمی کا عمل خالص اللہ کے لئے نہ ہو ، اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ایر پورٹ کے اندر امیگریشن پر بڑی لمبی لائن تھی۔ کھڑے کھڑے طبیعت گھبرا اٹھی۔ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader