ایک سفر
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
نے سوچا کہ آخرت میں اگر کوئی اور سزا نہ ہو ، صرف اتنا ہو کہ کروڑوں انسانوں کے درمیان تیز سورج میں کھڑا کر دیا جائے تو آدمی کا کیا حال ہوگا۔ دہلی سے ۲ مارچ ۱۹۹۰ء کی صبح کو اردن ایر لائنز (فلائٹ ۱۹۳) کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ وقت پر جہاز کا گیٹ بند ہو گیا اور جہاز اپنا پر پھیلائے ہوئے رن وے پر چلنے لگا۔ اتنے میں کچھ ہندوستانی مسافروں نے جہاز کے عملہ سے بحث شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری فیملی کا ایک آدمی باہر رہ گیا ہے اور ہمارا ٹکٹ اسی کے پاس ہے۔ کچھ دیر کی بحث کے بعد آخر کار جہاز دوبارہ گیٹ کی طرف واپس روانہ ہوا۔ آدمی کو تلاش کر کے اس کو دوبارہ اندر لا کر بٹھایا گیا ۔ اس کے نتیجہ میں جہاز تقریباً دو گھنٹہ لیٹ ہو گیا۔ یہ سطحیٹ اور نادانی کی ایک مثال ہے۔ اس قسم کی سطحیٹ اگر ایک آدمی اپنی ذاتی زندگی میں کرے تو وہ حماقت ہے، وہ جرم نہیں ہے۔ مگر اجتماعی زندگی میں اس طرح کی سطحیٹ ایک سنگین جرم بن جاتی ہے۔ کیوں کہ اجتماعی زندگی میں ایسی سطحی حرکت کی سزا پوری قوم کو بھگتتی پڑتی ہے۔ جہاز کے اندر امریکی میگزین نیوز ویک (۱۲ مارچ ۱۹۹۰) دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے صفحہ ۵۰ پر ایک فرانسیسی خاتون گروٹ (Groult) کی کتاب پر تبصرہ تھا۔ اس میں کتاب کے حوالہ سے بتایا گیا تھا کہ فرانس میں تحریک نسواں (Feminism) مایوسی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مثلاً کتابوں کے ناشرین نے تحریک نسواں کے متعلق لٹریچر چھاپنا بند کر دیا ہے، کیوں کہ اس کی فروخت میں بہت کمی آ گئی ہے: have stopped printing feminist literature because of poor sales. فرانس میں تحریک نسواں کی مشہور خاتون لیڈر بیور (Simone de Beauvoir) چار سال پہلے مر گئیں۔ ان کے بعد کوئی خاتون لیڈر ابھر نہ سکی۔ فرانس کی تحریک نسواں کو زندہ رہنے کے لئے ایک لیڈر کی تلاش ہے۔ ایک فرانسیسی خاتون نے اس صورت حال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کی عورتیں ایک غالب شوہر سے دور بھاگ سکیں گی، مگر آخری چیز جو وہ چاہتی ہیں وہ دوسرا غالب ہے: They may have escaped from a domineering husband and the last thing they want is another dominator.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader