Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 482

By Maulana Wahiduddin Khan

(Frances Weich) درج تھا۔ یہ مضمون مسٹر نراد چودھری کے بارے میں تھا۔ نراد چودھری ۱۸۹۷ میں بنگال میں پیدا ہوئے ۔ ان کو انگریزی لٹریچر سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ ۱۹۵۵ میں وہ پہلی بار انگلینڈ گئے۔ پچھلے ۲۲ سال سے وہ مستقل طور پر یہاں ہیں اور آکسفورڈ کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ وہ ان چند ہندوستانیوں میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پرفیکٹ انگلش لکھتے ہیں۔ اپنے مضامین اور کتابوں کے ذریعہ ان کو جو محدود آمدنی ہوتی ہے ، اسی پر وہ گزر کرتے ہیں اور حد درجہ سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے آکسفورڈ میں ایک تقریر کی۔ تقریر کا موضوع تھا کہ برطانیہ میں تہذیب کے زوال کا سبب کیا ہے۔ وہ ڈائس پر کھڑے ہوئے ۔ اپنے منہ سے اپنا مصنوعی دانت نکالا اور اس کے بعد حاضرین سے سوال کیا کہ اپنے یہ دانت میں نے کیوں کھو دئے: Why have I lost my teeth? یعنی یہ سادہ طور پر عمر کا معاملہ ہے۔ ایک فرد بوڑھا ہونے پر اپنے دانت کھو دیتا ہے، اسی طرح قومیں لمبی مدت گزرنے کے بعد عروج کا مقام کھو دیتی ہیں۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے، اور برطانیہ اس وقت اسی قانون فطرت کی زد میں ہے۔ لندن میں پروفیسر انیس قاری نے بتایا کہ ایک انگریز ان کا ملاقاتی ہے۔ اس کا نام ڈاکٹر مارٹن (Dr Martin) ہے۔ وہ اچھی اردو جانتا ہے۔ حتیٰ کہ اس نے ایم اے اور ڈاکٹر بیٹ اردو میں کیا ہے۔ قاری صاحب نے اس سے پوچھا کہ تم نے اردو کیسے پڑھی۔ اس نے بتایا کہ نوجوانی کی عمر میں جاب کی تلاش میں برینڈ فورڈ گیا۔ وہاں میں نے ایک مسلمان کا مکان کرایہ پر لیا۔ یہ پاکستان (میر پور) سے آیا ہوا ایک مسلمان تھا۔ معمولی پڑھا لکھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ابھی میرے پاس جاب نہیں ہے تو اس نے مجھ سے کرایہ بھی نہیں مانگا۔ اس نے کہا کہ جب جاب مل جائے تو کرایہ دے دینا۔ اگلے مہینہ مجھے جاب مل گیا تب بھی اس نے مجھ سے کرایہ نہیں لیا۔ اس نے کہا کہ ابھی تم کو پہلی تنخواہ ملی ہے۔ تم کو کام ہوگا ، تم اپنا کام چلاؤ۔ آئندہ مجھے دے دینا۔ مسلمان کے اس غیر معمولی سلوک کا ڈاکٹر مارٹن پر بہت اثر پڑا۔ انھوں نے سوچا کہ مجھے اس زبان کو پڑھنا چاہئے جو اس عجیب آدمی کی زبان ہے۔ تاکہ اس کے کلچر سے مجھے واقفیت ہو۔ چنانچہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page