Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 483

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ پاکستان اور انڈیا گئے۔ انھوں نے باقاعدہ داخلہ لے کر اردو پڑھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ڈاکٹریٹ تک اردو پڑھ ڈالی۔ اب وہ برطانیہ کے کسی تعلیمی ادارہ میں اردو کے استاد ہیں۔ ہندو اور مسلمان اور سکھ بڑی تعداد میں برطانیہ میں آباد ہیں۔ یہاں کے مادی فائدے ان کو یہاں لائے اور انھوں نے یہاں کی شہریت اختیار کرلی۔ مگر ہر ایک کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اگلی نسل اپنے آبائی مذہب اور کلچر سے دور ہوتی جارہی ہے۔ یہ صورت حال ہر ایک کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ یہاں کی مادی کشش انھیں برطانیہ چھوڑنے میں مانع بن رہی ہے۔ اسی کے ساتھ اپنے بچوں کے تہذیبی مستقبل کے بارہ میں وہ مستقل طور پر ترددد میں رہتے ہیں۔ اس کا حل تینوں فرقوں نے یہ نکالا ہے کہ وہ اپنے اپنے اسکول کھول رہے ہیں۔ کتابیں چھاپ رہے ہیں۔ اپنے بچوں کو اپنے قدیم کلچر پر باقی رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر مجھے اس کوشش کا کوئی واقعی مستقبل نظر نہیں آتا۔ میں نے ایک صاحب سے کہا: کلچرل سیلاب کا مقابلہ آپ لوگ کلچرل تحفظ سے کرنا چاہتے ہیں۔ مگر تحفظ کی ند پر کبھی ابتدامی یلغار کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگر سابق سوویت یونین کی طرح یہاں جبر ہو رہا ہوتا تو آپ کامیاب ہو سکتے تھے۔ مگر یہاں تو آپ کی نسلیں خود اپنی رغبت سے مغربی کلچر کی طرف دوڑ رہی ہیں۔ ایسی حالت میں آپ کی روایتی قسم کی تحفظاتی کوشش کس طرح موثر ہوسکتی ہے۔ ۲ ستمبر کولندن سے واپسی تھی۔ پروفیسر انیس قاری کے ساتھ ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ انھوں نے سیدھے ائیرپورٹ جانے کے بجائے مختلف راستے اختیار کئے تاکہ لندن کے اہم مقامات دیکھے جاسکیں۔ ہماری گاڑی مختلف راستوں سے گزر رہی تھی اور پروفیسر انیس قاری سڑک کے دونوں طرف کھڑی ہوئی بلڈنگوں کا تعارف کراتے جا رہے تھے۔ یہ ٹاور برج ہے، یہ ۱۰ ڈاؤننگ اسٹریٹ ہے، یہ پارلی منٹ ہاؤس ہے، یہ بگ بینک ہے، یہ بکنگھم پیلس ہے، یہ ہائڈ پارک ہے، یہ ہیرڈس (Harrods) ہے، یہ البرٹ وکٹوریہ میوزیم ہے، یہ اسماعیل سینٹر ہے، یہ امپریل سائنس کالج ہے، یہ آکسفورڈ اسٹریٹ ہے، یہ برٹش میوزیم ہے، یہ لندن یونیورسٹی ہے، یہ سائنس میوزیم ہے، یہ اسکول آف اورنٹیل اسٹڈیز ہے، یلندن پلے نیشیریم ہے، یہ گاندھی گارڈن ہے، یہ ریجنٹ پارک ہے، یہ چڑیا گھر ہے۔ اس طرح وہ ایک ایک چیز بتارہے تھے اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page