ایک سفر
Urdu book, p. 485
By Maulana Wahiduddin Khan
کارروائی معمول کے مطابق ہوئی۔ لندن سے اس جہاز کی روانگی کا وقت شام کو ساڑھے چار بجے تھا۔ مگر آخر وقت میں اعلان کیا گیا کہ تکنیکل خرابی کے سبب سے یہ جہاز نہیں جاسکتا۔ اس کے بجائے دوسرا جہاز مسافروں کو لے کر یہاں سے جائے گا۔ دوسرے جہاز کی روانگی میں چھ گھنٹہ سے زیادہ تاخیر ہوگئی۔ یہ چھ گھنٹہ شدید کیفیات کے عالم میں گزرے۔ یہ گویا الانتظار اشد من الموت کا منظر تھا۔ آخر کار تمام مسافر دوسرے جہاز میں بٹھائے گئے اور ساڑھے چار گھنٹہ کا سفر طے کر کے ہم لوگ قاہرہ کے ہوائی اڈہ پر اتر گئے۔ جہاز زمین سے بلند ہوا تو اسکائی وٹرن (جہاز کے اندر لگے ہوئے ویڈیو) پر ضروری ہدایات تصویر اور آواز کی صورت میں بتائی جانے لگیں۔ اناؤنسر نے کہا کہ آپ ان ہدایات کو غور سے سنیں، خواہ آپ ہوائی جہاز کے منتقل مسافر کیوں نہ ہوں : Even if you are a regular traveller. میں نے سوچا کہ دوسری تمام چیزوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ جب کوئی بات بتائی جائے تو اس کو اس لئے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ اس کو آپ اس سے پہلے سن چکے ہیں۔ بلکہ اس طرح سننا چاہئے گویا کہ آپ اس کو پہلی بار سن رہے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو وہی شعور کی اعلیٰ ترقی کو پا سکتے ہیں۔ جہاز ۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ میں نے اپنی سیٹ کے خانہ سے برٹش ایئرویز کا فلائٹ میگزین ہائی لائف (High life) نکالا۔ یہ ستمبر ۱۹۹۲ کا شمارہ تھا۔ اس میں "ورلڈ ٹریول نیوز" کے عنوان کے تحت تاج محل کی تصویر تھی۔ یہ اس عمارت کی ایک خصوصی تصویر تھی اور اس کے نیچے لکھا ہوا تھا : Photo: courtesy of British Airways - Image Bank. یعنی تاج محل کا یہ فوٹو ہائی لائف نے برٹش ایئرویز کے امیج بینک (تصویری ذخیرہ) سے حاصل کیا ہے۔ یہ باتوں کو خوبصورت، الفاظ میں کہنے کا زمانہ ہے۔ اوپر کا فقرہ اس کی ایک، مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایک نئے فتنے کا اضافہ ہوا ہے، یہ الفاظ کا فتنہ ہے۔ بہت زیادہ باشعور آدمی ہی اس فتنہ سے بچ سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader