ایک سفر
Urdu book, p. 484
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا ذہن مسلسل ان کے الفاظ کو اپنی یادداشت سے وابستہ کرتے ہوئے انہیں سمجھتا جا رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ دین فطرت کی دعوت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہر آدمی کے لاشعور میں خدا کے دین کا تصور پیشگی طور پر موجود ہے۔ جب ایک داعی خدا کے دین کو بے آمین روپ میں پیش کرتا ہے تو انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ عین وہی چیز ہے جس کا تصور پہلے سے میرے ذہن میں موجود تھا۔ اپنے تصور اور خارجی واقع کی یہ مطابقت اس کے لاشعور کو شعور بنا دیتی ہے، وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اس کا اعتراف کر کے خدا کے بندوں میں شامل ہو جائے۔ راستہ میں ایسٹ لندن کی مسجد تھی۔ عین سڑک کے کنارے کافی بڑی اور شاندار مسجد ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ پارک روڈ پر پہنچے تو وہاں لندن کی مرکزی مسجد تھی ۔ یہ مسجد اور مرکز عربوں نے تعمیر کرایا ہے۔ یہاں ٹھہر کر اندر داخل ہوئے۔ یہ بہت بڑے رقبہ میں واقع ہے۔ مسجد کا اندرونی حصہ جو ایک بڑے گنبد کے نیچے هال کی مانند ہے، اس کو میں نے ناپا تو ایک طرف ۳۶ قدم اور دوسری طرف ۴۰ قدم تھا۔ یہاں دو رکعت تحتیۃ المسجد پڑھی۔ نماز پڑھتے ہوئے ایک عجیب احساس ہوا۔ میرے دل نے کہا کہ تحتیۃ المسجد دراصل تحتیۃ الخالق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا کے مناظر سے گزر رہا ہے۔ اس کے بعد اس کے سامنے مسجد آتی ہے جو خدا کا عبادت خانہ ہے۔ اس وقت مسجد گویا خاموش زبان میں کہتی ہے کہ خدا کے عظمت و جلال کا اعتراف کرو۔ اس احساس اعتراف کو لئے ہوئے آدمی مسجد کے اندر داخل ہوتا ہے اور بے تابانہ طور پر خدا کے سامنے گر جاتا ہے۔ مسجد کے صحن میں دو ٹرک کھڑے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس پر عطیہ کے کپڑے اور کمبل لدے ہوئے ہیں اور وہ بوسنیا کے ستم رسیدہ مسلمانوں کے لئے بھیجے جا رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ بوسنیا کے حادثہ کے بعد ساری دنیا کے مسلمانوں نے جتنے بڑے پیمانہ پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، اگر یہی ہمدردی وہ اس سے پہلے بوسنیا میں تبلیغ کے لئے کرتے تو وہاں کے مسلمانوں کی تعداد ۳۴ فیصد سے بڑھ کر شاید ۸۳ فیصد ہو جاتی اور پھر اس قسم کے حادثہ کی جڑ کٹ جاتی۔ مگر مسلمان قومی جذبہ کے تحت خرچ کر نا جانتے ہیں، وہ دعوتی جذبہ کے تحت خرچ کرنا نہیں جانتے۔ ۲ ستمبر کو برٹش ایئرویز کی فلائٹ ۱۵۵ کے ذریعہ لندن سے قاہرہ روانہ ہونا تھا۔ ساری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader