Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 489

By Maulana Wahiduddin Khan

ہونے کی حقیقت دریافت کر لے اور اس کا اظہار اپنی زبان سے کرے تو وہ ایک زلزلہ خیز تجربہ کا لسانی اظہار ہوتا ہے نہ کہ محض کچھ حروف کا تلفظ۔ اسی طرح بخاری کے آخر میں جب آپ پڑھیں گے کہ کلمات خفيفتان علی اللسان ثقيلتان فى الميزان تو اس کو لغت عرب میں سمجھنے کی صورت میں آپ اس کو لفظی ورد کے طور پر لے لیں گے۔ مگر جب آپ اس کو لغت انسان کے طور پر لیں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ اللہ کی عظمت و قد روسیت کا ادراک ایسی چیز ہے جو روح انسانی میں ہلچل پیدا کر دینے والا ہے۔ ایسی حالت میں مذکورہ کلمہ سادہ طور پر صرف تلفظ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہ ایک روحانی انقلاب کا لفظوں میں ڈھل جانا ہے۔ قاہرہ کے قیام میں یہاں کی کوئی چیز دیکھنے کے لئے نہ جا سکا۔ سارا وقت عربوں کے ساتھ گفت گو اور سوال وجواب میں گزرا۔ ایک عرب نوجوان جو الرسالہ مشن سے گہرے طور پر متاثر ہیں انھوں نے کہا کہ الرسالہ مشن سے واقفیت سے پہلے ہمارے ذہنوں پر سازش کے انداز میں سوچنے کا طرز فکر چھایا ہوا تھا ( كانت تسيط علينا فكرة المؤامرة) مگر اب ہم خدا کے فضل سے اس فکری مصیبت سے نکل چکے ہیں۔ اب ہم دعوتی انداز میں سوچتے ہیں۔ اب ہم کو دنیا امکانات اور قُرص سے بھری ہوئی نظر آتی ہے، جب کہ اس سے پہلے یہ دنیا سازشوں اور مشکلات سے بھری ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ عربوں کی ایک مجلس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل کچھ حضرات کی پسندیدہ تعبیر یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اسلام کو مکمل طور پر اختیار کریں۔ يجب علينا ان ناخد الاسلام ككل ، مگر یہ طریقہ سنت رسول سے ثابت نہیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ : ماخير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين إلا اختار اليسرهما۔ اس روایت کے مطابق ، اعسر کو چھوڑنا اور ایسر کو لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ مگر ان لوگوں کا قول اس کے خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو امر میں سے ایک کو لیتے تھے اور یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بیک وقت دونوں کو لینا چاہئے (فكان الرسول ياخذ احد الامرين وهم يقولون علينا ان تأخذ كلا الامرين)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page