ایک سفر
Urdu book, p. 493
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصر کے شاہی دور کو کس نے ختم کیا۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ شاہی دور اس طرح ختم ہوا کہ حسن البنا نے اپنی پرجوش تقریروں کے ذریعہ لوگوں کو اس کے خلاف اکسایا۔ اس کے بعد اسی بنیاد پر جوشیلے نوجوانوں کی ایک جماعت بنی۔ اس حلقہ نے فوجی افسروں کے ساتھ مل کر مصر کے شاہ فاروق کے خلاف وہ منصوبہ بنایا جس کو آجکل کی زبان میں سازش کہا جاتا ہے۔ اس طرح الاخوان المسلمون اور فوجی افسروں نے مشترکہ کوشش سے شاہ فاروق کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور اس کو اور اس کے خاندان کو مصر سے باہر نکال دیا۔ اس کے بعد مصر میں سخت ناگفتہ بہ حالات پیدا ہو گئے۔ اگر اخوانی لیڈرز اس کو جانتے تھے تو ان کی سنجیدگی مشتبہ ہوتی ہے، اور اگر وہ اس کو نہیں جانتے تھے تو ان کی قائدانہ صلاحیت مشتبہ ہوتی ہے۔ اب یہ اخوان کے معتقدین کے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کس توجیہہ کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔ شیخ محمد عبدہ (۱۹۰۵ - ۱۸۳۹) مصر کے مشہور عالم اور مصلح تھے۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے ان کے تذکرہ کے ذیل میں بتایا کہ محمد عبدہ نے ابتداً سید جمال الدین افغانی کے ساتھ سیاسی کام کیا۔ مگر آخر میں وہ اس سے مایوس ہو گئے۔ اس وقت انھوں نے سیاسی کام سے سخت نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی لعنت ہو سیاست پر اور سیاست دانوں پر اور ہر اس چیز پر جو سیاست کے نقطہ سے تعلق رکھتا ہو وقال محمد عبدہ بعد ان یئس من العمل السياسی مع جمال الدين الافغانى : لعن الله السياسة والسّاسة وكل ما يتصل بكلمة ساس يَسُوسُ) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ مصر کے ایک بڑے عالم نے جس سیاست پر اس طرح لعنت بھیجی تھی ، اسی سیاست کو دوبارہ مصری نوجوانوں نے مزید شدت کے ساتھ اختیار کر لیا اور وہ جماعت وجود میں آئی جس کو الاخوان المسلمون (قائم شده ۱۹۲۸) کہا جاتا ہے۔ آخر اس کا سبب کیا ہے۔ مفتی محمد عبدہ کا اظہار لعنت مصری نوجوانوں کو اس ہلاکت خیز سیاست سے روکنے میں کامیاب کیوں نہ ہوا۔ اس کی کم از کم ایک خاص وجہ یہ ہے کہ مفتی محمد عبدہ نے لعنت کی زبان میں تو اس کے خلاف اظہار خیال کیا، مگر وہ دلیل کی زبان میں اس کو لوگوں کے سامنے ثابت نہ کر سکے۔ انسان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader