Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 494

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک عمل سے دوسرے عمل کی طرف پھیرنے کے لئے ضروری ہے کہ سابقہ عمل کا غلط ہونا اور دوسرے عمل کا صحیح ہونا دلائل سے ثابت شدہ بنا دیا جائے۔ مگر مفتی محمد عبدہ کی بعد کی تحریروں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انھوں نے یہ کام انجام دیا۔ رشید رضا کی کتاب تاریخ الاستاذ الامام الشیخ محمد عبدہ بھی اس سلسلہ میں کوئی واقعی مواد پیش نہیں کرتی۔ ۲۹ ستمبر کو قاہرہ میں ایک عرب نوجوان عبدالسلام احمد حدود (۳۲ سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تقریبا چار سال (۱۹۳۱- ۱۹۸۸) الجزائر میں رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے وہاں عمل کی پوری آزادی تھی۔ مسجد کے اندر بھی اور مسجد کے باہر بھی۔ یہ ایک "فرصۃ عظیمۃ" تھی جو کسی اور عرب ملک میں موجود نہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے الجزائری بھائی ان مواقع کو دعوت اور اشاعت اسلام کے لئے استعمال نہ کر سکے، بلکہ اس آزادی کو حکام کے خلاف سیاسی تحریک چلانے میں استعمال کیا۔ اس کی وجہ سے الجزائر میں مشکلات پیدا ہو گئیں۔ میں نے کہا کہ مسلم اخبارات میں کثرت سے میں نے الجزائر کے بارے میں پڑھا ہے۔ مگر تمام مسلم اخبارات صرف کہانی کا نصف ثانی بتاتے ہیں، وہ کہانی کا نصف اول اپنے قارئین کو نہیں بتاتے۔ یہ قرآن کے الفاظ میں تطفیف ہے۔ ان پر لازم تھا کہ وہ اس طرح لکھیں کہ الجزائر میں دینی عمل کی آزادی تھی۔ مگر ہم نے حکمرانوں سے سیاسی نزاع کی، اس کے بعد آزادی باقی نہ رہی۔ ( لقد قرأت كثيرا عن الجزائر في جرائد المسلمين۔ ولكن كلهم يكتبون عن النصف الثاني۔ وهم لا يكتبون عن النصف الاول۔ فكان عليهم ان يكتبوا انه كان في الجزائر حرية دينية۔ ولكن عند ما قاموا للسياسة جاءت هذه الصعوبات ) ۲۹ ستمبر کی شام کو ڈاکٹر عبد الحلیم عویس سے ملاقات ہوئی۔ وہ ریاض کی جامعۃ الامام میں علوم اجتماعی کے پروفیسر ہیں۔ ان کے ساتھ قاہرہ الجدید ہ سے حلوان کی طرف روانگی ہوئی۔ یہ ایک لمبا راستہ تھا۔ قاہرہ کا بڑا حصہ سفر کے دوران آنکھوں کے سامنے گزرتا رہا۔ ایک مقام پر نیل کے کنارے ایک بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس پر عصفور الجنہ لکھا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس کا تلفظ عصفور الگنہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے سفر ہندوستان کے تحت بنارس کا ذکر کیا تو انھوں نے ایک جملہ میں سهر جنہا کا لفظ استعمال کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page