Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 495

By Maulana Wahiduddin Khan

ابتداً یہ لفظ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ غور کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی مراد اس سے دریائے گنگا ہے۔ مصر کے لوگ جج کو گگ پڑھتے ہیں۔ مگر غیر عربی الفاظ بولنا ہو تو اس وقت وہ گ کو ج کی مانند پڑھیں گے۔ مصر میں بڑے شہروں کے تعلیم یافتہ لوگ رچ کو گچ بولنے لگے ہیں۔ مگر شہروں کے باہر دیہات کے لوگ اب بھی ج کو ج ہی بولتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص رچ کو گچ کی آواز سے بولے اس کو تعلیم یافتہ لوگ قروی (دیہاتی) کہتے ہیں۔ ۲۹ ستمبر کی شام کو میں ڈاکٹر عبد الحلیم عویس کے مکان پر تھا۔ میری موجودگی اطلاع پا کر وہاں الاستاذ محمود محمد خلیل آگئے۔ ان کا تعلق ریڈیو قاہرہ سے ہے۔ انھوں نے ریڈیو کے لئے ایک مفصل انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق کچھ الرسالہ مشن سے تھا۔ اور کچھ موجودہ زمانہ میں امت مسلمہ کے مسائل سے۔ ایک سوال " اولویات العمل الاسلامی " سے متعلق تھا۔ یعنی اعمال اسلامی کو اختیار کرنے کے سلسلہ میں ہماری ترجیح کیا ہونی چاہئے ۔ میں نے کہا کہ اس کا واضح جواب صحیح بخاری کی روایت میں موجود ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ما خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بين امرين الا اختار اليسرهما۔ ترجیح کے سلسلہ میں ہمارا طریقہ اختیار الیسر کا ہونا چاہئے۔ یہاں الیسر سے مراد وہ چیز ہے جو ممکن ہو۔ مصر میں اسلام پسند حضرات کے لئے عمل کے دو میدان تھے۔ ایک ، تعلیم و دعوت۔ دوسرا، انقلاب حکومت۔ پہلا ممکن تھا۔ اور دوسرا غیر ممکن۔ اس لئے سنت رسول کے مطابق، ان کے لئے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ انقلاب حکومت کے میدان میں نہ اتریں۔ اور تعلیم و دعوت کے میدان میں کام کریں۔ شام کی اس مجلس میں حکومت مصر کے ایک قانونی مستشار محروس فورس موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ اخوانی نوجوانوں کے اندر جذبہ تھا مگر ان کے اندر شعور نہ تھا (كانوا أمتحسين ولكن غير واعين)، انھوں نے کہا کہ میں نے اخوانی نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ تمہارے لئے دعوت کا مید ان کھلا ہوا ہے، اس میں کام کرو۔ تم پہلے گہرے مطالعہ کے لئے دین اور دنیا کا علم حاصل کرو۔ اور پھر سیاسی مشاكل سے صرف نظر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے غیر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page